افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے چھپانے کی کوشش، پاکستانی حملے میں تباہ شدہ مقامات سیل

پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردوں کے مرکزی ٹھکانوں پر کی گئی حالیہ فضائی کارروائی نے افغان طالبان رجیم کی منافقانہ روش اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔
پاکستان نے یہ کارروائی مصدقہ اور انتہائی قابلِ اعتماد انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی تھی، جس کا مقصد سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کا قلع قمع کرنا تھا۔
تاہم کارروائی کے فوراً بعد افغان انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں میڈیا اور عام شہریوں کی رسائی روکنے کے اقدامات نے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔
دی ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق افغان حکام نے آزاد صحافیوں اور مقامی لوگوں کو ان مقامات پر جانے سے سختی سے منع کر دیا ہے جہاں پاکستانی طیاروں نے دہشت گردوں کے مراکز کو نشانہ بنایا تھا۔
ریاستی زیرِ انتظام افغان میڈیا نے صرف ضلع بہسود کے ایک ملبے کی فوٹیج دکھائی تاکہ خود کو مظلوم ثابت کیا جا سکے، لیکن پکتیکا، خوست اور ننگرہار جیسے دیگر اہم مقامات جہاں دہشت گردوں کی ہلاکتیں ہوئیں، وہاں کی کوئی رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔
مقامی رہائشیوں نے تصدیق کی ہے کہ فضائی حملوں کے فوراً بعد طالبان فورسز نے کئی علاقوں کو گھیرے میں لے لیا اور کسی کو بھی وہاں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔
مقامی شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان علاقوں میں دہشت گرد کئی سالوں سے اپنے خاندانوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں اور انہیں مکمل تحفظ حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کے افغانستان پر حملوں میں 148 دہشت گرد ہلاک ہوئے : افغان ذرائع
خوگانی اور ننگرہار سمیت دیگر حساس مقامات پر صحافیوں کی جانب سے جانے کی درخواستوں کو براہِ راست مسترد کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں کچھ ایسا موجود ہے جسے دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنا مقصود ہے۔
ماہرینِ دفاع کا کہنا ہے کہ آزاد میڈیا کو رسائی نہ دینا اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ طالبان رجیم زمینی حقائق کو چھپانے اور دہشت گردوں کی موجودگی پر پردہ ڈالنے میں مصروف ہے۔
ان پابندیوں کی وجہ سے ہلاکتوں کی اصل تعداد اور دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ پا رہی ہیں۔
مستند شواہد اب یہ واضح کر چکے ہیں کہ افغانستان اس وقت فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سمیت کئی عالمی دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔
میڈیا پر لگائی گئی یہ قدغنیں اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ طالبان رجیم کی مکمل سرپرستی میں افغانستان کے مختلف حصوں میں دہشت گردوں کے تربیتی مراکز اور ٹھکانے موجود ہیں، جو علاقائی امن کے لیے ایک مستقل خطرہ ہیں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












