سندھ کی تقسیم کی ہر کوشش کی مزاحمت کریں گے : شیری رحمان

پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنماء اور سینیٹر شیری رحمان نے ایوانِ بالا کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے سندھ کی تقسیم کے حوالے سے جاری بحث کو آئین اور جمہوریت کے مکمل خلاف قرار دیا ہے۔
شیری رحمان نے واضح طور پر کہا کہ سندھ ایک اکائی ہے اور اس کی تقسیم کی بات کرنا ملک کے جمہوری ڈھانچے پر حملے کے مترادف ہے۔
پی پی رہنماء نے آئینی طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی صوبے کی حدود میں تبدیلی لانے کے لیے متعلقہ اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کا ہونا لازمی ہے، اس لیے محض بیانات یا خواہشات سے جغرافیائی تبدیلیاں ممکن نہیں ہیں۔
انہوں نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ بیک ڈور سیاست یا خفیہ گٹھ جوڑ کے ذریعے سندھ کو متنازعہ نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے سندھ کی تاریخی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ نے قیامِ پاکستان میں ایک کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا ہے، یہ صوبہ ایک ایسی جمہوری جگہ ہے جہاں تمام رنگ و نسل کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : صدر، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کا پشین آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراج تحسین
شیری رحمان نے نسل، زبان اور مذہب کی بنیاد پر کی جانے والی سیاست کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی نفرت انگیز تقسیم کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جو لوگ صوبائی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی چاہتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ شارٹ کٹ کے بجائے جمہوری جدوجہد کا راستہ اختیار کریں۔
انہوں نے میڈیا ٹرینڈز اور سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے صوبوں کی تقسیم کی کوششوں کو لایعنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کسی بھی مہم سے حقائق نہیں بدلے جا سکتے۔
پی پی رہنماء نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کی ہر سازش اور کوشش کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کی جماعت سیاسی انتقام کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی بلکہ وہ وفاق کی علامت بن کر تمام اکائیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












