روس اور چین ایران کے دفاع میں سامنے آ گئے، حملے فوری روکنے کا مطالبہ

روس اور چین نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور خطے کے لیے تباہ کن قرار دیا ہے۔
روس اور چین نے ایران پر ہونے والے حالیہ حملوں پر سفارتی آواز بلند کی ہے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ تہران جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے، جبکہ بیجنگ نے ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای نے اپنے اسرائیلی ہم منصب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہو رہی تھی اور اسرائیل کے حفاظتی خدشات کو بھی دور کیا جا رہا تھا۔ چین کا موقف ہے کہ طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ نئے اور سنگین مسائل جنم لیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : بھارت کی مفاد پرست خارجہ پالیسی، روسی تیل کی دوبارہ خریداری پر غور
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں ایران کو وہی کام کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں، جسے روکنے کا وہ دعویٰ کر رہے ہیں، یعنی جوہری بم کی تیاری۔
لاوروف کے مطابق امریکہ ان ممالک پر حملہ نہیں کرتا، جن کے پاس جوہری بم ہوتے ہیں، اس لیے اب ایران کے اندر بھی ایسے گروہ مضبوط ہوں گے، جو جوہری ہتھیاروں کے حصول کے حق میں ہیں۔
روس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس صورتحال کے بعد عرب ممالک میں بھی جوہری ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے جو کنٹرول سے باہر ہو جائے گی۔
روس نے ان حملوں کو ایک خود مختار ریاست کے خلاف پہلے سے منصوبہ بند جارحیت قرار دیتے ہوئے تمام تر ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر عائد کی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











