کس قسم کے مشروبات قبل از وقت موت کا سبب بنتے ہیں؟ نئی تحقیق نے سب کے ہوش اڑادیئے

Which Types of Drinks Cause Premature Death? New Study Shocks Everyone
حالیہ سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سافٹ ڈرنکس، فروٹ فلیورڈ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس جیسے مشروبات میں چینی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا مسلسل استعمال کئی سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایسے مشروبات دل کی بیماری اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرات کو بڑھا دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ جسم کے میٹابولزم کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص طویل عرصے تک زیادہ مقدار میں میٹھے مشروبات پیتا رہے تو اس کے جسم میں انسولین مزاحمت پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں شوگر لیول بڑھنے اور دیگر صحت کے مسائل کا خطرہ بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق سال 2020 کے عالمی اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ اس جائزے سے معلوم ہوا کہ میٹھے مشروبات کے زیادہ استعمال کی وجہ سے دنیا بھر میں تقریباً 22 لاکھ نئے ٹائپ ٹو ذیابیطس کے کیسز سامنے آئے۔ اسی طرح تقریباً 12 لاکھ افراد میں دل کی بیماری کی تشخیص ہوئی۔ ان بیماریوں کے باعث دنیا بھر میں تقریباً 3 لاکھ 40 ہزار اموات بھی رپورٹ ہوئیں۔
ماہرین کے مطابق ایسے مشروبات جسم میں سوزش پیدا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ وزن میں اضافے اور بلڈ شوگر کے مسائل کو بھی بڑھاتے ہیں۔ یہی عوامل بعد میں دل کے امراض اور شوگر جیسی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
غذائی ماہرین اور ڈاکٹرز نے مشورہ دیا ہے کہ لوگوں کو میٹھے مشروبات کے استعمال کو بہت کم کر دینا چاہیے۔ ہفتے میں ایک بار سے زیادہ ایسے مشروبات کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے بجائے پانی، تازہ جوس یا کم کیلوریز والے مشروبات کو ترجیح دینا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ تحقیق مشاہداتی نوعیت کی ہے اور براہ راست وجہ اور نتیجہ ثابت نہیں کرتی، لیکن اس سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ زیادہ چینی والے مشروبات صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے عوام کو چاہیے کہ اپنی روزمرہ خوراک میں ان مشروبات کا استعمال کم کریں تاکہ صحت مند زندگی گزار سکیں۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












