پیر، 16-مارچ،2026
پیر 1447/09/27هـ (16-03-2026م)

جسم میں کرنٹ دوڑنے یا رونگٹے کھڑے ہونے کا کیا راز ہے؟ ماہرین نے بتادیا

16 مارچ, 2026 09:20

اکثر لوگوں کو اچانک ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے جسم میں سنسنی دوڑ گئی ہو۔ دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ بازوؤں یا جسم کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ عام زبان میں اسے رونگٹے کھڑے ہونا کہا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ جسم کا ایک قدرتی ردِعمل ہے۔ سائنسی طور پر اسے پائلو اِریکشن کہا جاتا ہے۔ یہ کیفیت عموماً جذبات یا ماحول کی تبدیلی کے باعث پیدا ہوتی ہے۔

 سب سے عام وجہ خوف ہے۔ جب انسان کو اچانک خطرہ محسوس ہو تو جسم میں مخصوص ہارمونز خارج ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے۔ جسم میں ہلکی سی کپکپی محسوس ہوتی ہے۔ اور رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

صرف خوف ہی نہیں، شدید خوشی یا گہرا دکھ بھی اس کیفیت کو پیدا کر سکتا ہے۔ بعض اوقات اچانک خوشخبری سن کر بھی جسم یہی ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح کسی افسوسناک خبر یا جذباتی لمحے میں بھی رونگٹے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ یہ جسم کا ایک فطری نظام ہے جو جذبات کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق دلچسپ کہانی سننے، خوفناک منظر دیکھنے یا پسندیدہ گانا سننے کے دوران بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ جب دل کسی بات سے گہرائی میں متاثر ہوتا ہے تو جسم فوری طور پر ردِعمل دیتا ہے۔ اسی طرح کسی بڑے فیصلے کا انتظار کرتے وقت یا محبت کے اظہار کے لمحے میں بھی یہ کیفیت سامنے آ سکتی ہے۔

کبھی سردی لگنے پر بھی جسم میں یہی عمل ہوتا ہے۔ ٹھنڈ کے باعث جلد کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں تاکہ جسم گرمی کو محفوظ رکھ سکے۔ بیماری یا بخار کے دوران ٹھنڈ لگنے پر بھی رونگٹے کھڑے ہونا عام بات ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جسم کا حفاظتی نظام بھی ہے۔

مختصر طور پر رونگٹے کھڑے ہونا انسانی جسم اور دماغ کے درمیان جذباتی رابطے کی علامت ہے۔ یہ خوف، خوشی، حیرت یا کسی بھی شدید احساس کے دوران ظاہر ہو سکتا ہے۔ ماہرین اسے صحت مند جسم کا قدرتی ردِعمل قرار دیتے ہیں۔

Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔