ٹرمپ کی ناکام حکمتِ عملی نے ایران کو پہلے سے زیادہ متحد اور طاقتور بنا دیا

ٹرمپ کی ایران سے متعلق سخت گیر حکمتِ عملی بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے، جس نے نہ صرف خطے کو عدم استحکام کا شکار کیا بلکہ امریکی معیشت پر 30 ارب ڈالرز کا بھاری بوجھ بھی لاد دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے مسئلے کو حل کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ان کی ناقص حکمتِ عملی نے اسے ایک بھیانک ڈراؤنے خواب میں تبدیل کر دیا ہے، جس کی بھاری قیمت امریکی ٹیکس دہندگان کو 30 ارب ڈالرز کی صورت میں چکانی پڑی۔
ٹرمپ کے دور میں آبنائے ہرمز، جو کبھی ایک تجارتی راستہ تھا، اب ایک جنگی زون بن چکا ہے، جہاں امریکہ ایک ایسی نفسیاتی جنگ میں پھنس گیا ہے، جسے وہ جیت نہیں سکتا۔
ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ ختم کر کے ٹرمپ نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اب صرف ایٹم بم ہی واحد دفاعی راستہ ہے، جس کے نتیجے میں دیگر ممالک بھی اپنی ایٹمی خواہشات کو بڑھانے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : خاتون کا اسرائیلی مفادات کے تحفظ کیلئے ٹرمپ کو 40 ملین ڈالرز کا عطیہ
ٹرمپ کی آمد سے قبل ایران سیاسی طور پر منقسم تھا، لیکن امریکہ کی مسلسل جارحیت اور امریکی جمہوریت کے جھوٹے دعوؤں نے ایرانی قوم کو اینٹی امریکہ ایجنڈے پر متحد کر دیا ہے اور وہاں ان سخت گیر قوتوں کو تقویت ملی ہے، جن سے واشنگٹن سب سے زیادہ ڈرتا تھا۔
اس کے ساتھ ہی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اب اثاثہ رہنے کے بجائے ایران اور اس کے اتحادیوں کے لیے آسان ہدف بن چکے ہیں۔
ٹرمپ نے ایرانی جرنیلوں کو نشانہ بنا کر سیاسی قتل و غارت گری کو ایک معمول کی پالیسی بنا دیا، جس نے عالمی سفارتی آداب کو پامال کیا۔
اس پالیسی کے باعث یورپ، نیٹو اور خلیجی شراکت داروں کو یہ سبق ملا کہ واشنگٹن اپنے چھوٹے مفادات کے لیے کسی بھی قریبی اتحادی کو قربان کر سکتا ہے۔
امریکی عوام کے وہ 30 ارب ڈالرز جو اسکولوں، سڑکوں اور صحت کی سہولیات پر خرچ ہو سکتے تھے، وہ ایک ایسی مہم میں جلا دیئے گئے، جس کا حاصل صرف ناکامی اور ذلت ہے۔
ٹرمپ نے معاہدے پھاڑ کر اور مذاکرات کاروں کو ختم کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ اب ایک قابلِ بھروسہ ریاست نہیں بلکہ ایک ایسا بدمعاش ہے، جو صرف دھوکہ دہی اور طاقت کے استعمال پر یقین رکھتا ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












