جمعرات، 23-اپریل،2026
جمعرات 1447/11/06هـ (23-04-2026م)

حساس امریکی ماہرین کی پراسرار اموات اور گمشدگیوں پر کھلبلی، تحقیقات کا حکم

23 اپریل, 2026 09:10

امریکہ میں جوہری، خلائی اور انتہائی خفیہ پروگراموں سے وابستہ گیارہ ماہرین کی ہلاکتوں اور گمشدگیوں پر امریکی پارلیمان نے وفاقی تحقیقاتی ادارے، خلائی تحقیقاتی ادارے اور محکمہ جنگ سے فوری جواب طلب کر لیا ہے۔

امریکہ میں 2023 سے اب تک جوہری، خلائی اور انتہائی حساس درجہ بندی کے حامل پروگراموں تک رسائی رکھنے والے 11 ماہرین کی پراسرار اموات اور گمشدگیوں نے ملک کے اعلیٰ ترین حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

امریکی کانگریس نے اس سنگین معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے، قومی خلائی ادارے ناسا اور پینٹاگون سے بیک وقت جوابات طلب کر لیے ہیں۔

اس تحقیقات میں اب ناسا براہ راست شامل ہو چکا ہے کیونکہ مرنے والے یا لاپتہ ہونے والے ماہرین میں سے کم از کم 10 کا تعلق براہ راست انتہائی حساس جوہری اور ایرواسپیس تحقیق سے تھا۔

یہ بھی پڑھیں : ایران افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرے، وائٹ ہاؤس کا نیا مطالبہ

تحقیقات کے دوران یہ تشویشناک بات سامنے آئی ہے کہ متاثرہ ماہرین میں سے کئی کا تعلق ناسا کی مشہور زمانہ جیٹ پروپلشن لیبارٹری سے تھا، جو مریخ اور دیگر بین الستارہ مشنوں کے لیے جانی جاتی ہے۔

ان واقعات میں ایک طویل عرصے سے وابستہ جوہری طبیعیات دان بھی شامل ہیں، جنہیں ان کے گھر کے باہر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا، جبکہ ایک ایرواسپیس انجینئر اس وقت پراسرار طور پر غائب ہو گئے، جب وہ پہاڑوں پر ہائیکنگ کے لیے گئے ہوئے تھے۔ ان کے علاوہ خلا کی تحقیق کے شعبے کے کئی دیگر ماہرین بھی ان واقعات کا شکار ہوئے ہیں۔

اس وقت وفاقی تحقیقاتی ادارہ اس پوری تفتیش کی سربراہی کر رہا ہے، جس میں محکمہ توانائی، محکمہ جنگ اور ناسا کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہا ہے، لیکن اب تک ادارے کو ایسے کوئی شواہد نہیں ملے، جن سے یہ ثابت ہو سکے کہ ان اموات یا گمشدگیوں کا تعلق براہ راست قومی سلامتی کو درپیش کسی خطرے سے ہے۔

تاہم امریکی ایوان کی نگرانی کمیٹی نے ان وضاحتوں کو کافی قرار نہیں دیا اور اپنی الگ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ کسی منظم غیر ملکی ایجنسی کی کارروائی ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور بڑے عوامل کارفرما ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔