جنگی معیشت کا عروج، عام آدمی کیلئے مہنگائی، کارپوریٹ سیکٹر کیلئے ڈالرز کا سیلاب

ایران کے خلاف جنگی ماحول نے جہاں دنیا کو پریشان کر رکھا ہے، وہیں امریکی بینکوں اور دفاعی اداروں کے لیے منافع کے نئے ریکارڈ قائم کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔
عالمی طاقت کے مراکز میں جنگی زبان صرف میزائلوں تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کا ایک گہرا تعلق مالیاتی نظام سے بھی ہوتا ہے۔ حالیہ ایران امریکہ کشیدگی نے وال اسٹریٹ کے بڑے بینکوں کے لیے ریکارڈ منافع کے دروازے کھول دیے ہیں۔
جے پی مورگن چیس کے سربراہ جیمی ڈائمن نے جہاں ایران کو نشانہ بنانے کی حمایت کی، وہیں ان کے بینک نے رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں تجارت سے ریکارڈ گیارہ ارب ڈالر سے زائد کا منافع کمایا۔
یہ بھی پڑھیں : قرضوں میں ڈوبا امریکہ اور موقع کی تلاش میں بیجنگ، چینی دانشور کا اہم تجزیہ
اسی طرح سٹی گروپ، گولڈمین سیکس اور مورگن اسٹینلے جیسے اداروں نے بھی مارکیٹ میں ہونے والی اتھل پتھل کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔
جنگ مالیاتی منڈیوں کے لیے ایک ایسا ایندھن ثابت ہوتی ہے، جو کرنسیوں کی عدم استحکام، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور حکومتی قرضوں کے اجراء میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔
عام خاندان جہاں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی سے پریشان ہیں، وہیں بینک ان سودوں پر فیس اور کمیشن کی مد میں اربوں کما رہے ہیں۔
بینکنگ کے ساتھ ساتھ دفاعی صنعت کے بڑے ادارے جیسے لاک ہیڈ مارٹن اور نارتھروپ گرومین بھی میزائلوں اور دیگر جنگی ساز و سامان کی طلب بڑھنے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقتور ادارے عدم استحکام سے منافع کمانے لگتے ہیں، تو امن کا راستہ زیادہ مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ جنگ کی معیشت خود کو برقرار رکھنے کے لیے کشیدگی کو ہوا دیتی رہتی ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












