ٹنگسٹن کے بحران میں امریکہ کی چھپی ہوئی کمزوری پر چینی کنٹرول

جدید جنگی ساز و سامان کے لیے ناگزیر دھات ٹنگسٹن کی سپلائی پر چینی کنٹرول نے امریکہ کو ایک ایسی اسٹریٹجک مشکل میں ڈال دیا ہے، جسے صرف پیسہ خرچ کر کے حل کرنا ناممکن ہے۔
امریکہ برسوں سے اپنے بجٹ کے خسارے اور فوجی اخراجات پر توجہ دیتا رہا ہے، لیکن حالیہ ٹنگسٹن بحران نے ایک ایسی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے، جو براہ راست اس کی دفاعی پیداوار کو متاثر کر رہی ہے۔
ٹنگسٹن وہ دھات ہے جسے صنعتی دانت کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ ٹوما ہاک میزائلوں، جدید سیمی کنڈکٹرز اور ہائپرسونک نظاموں کی تیاری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : قرضوں میں ڈوبا امریکہ اور موقع کی تلاش میں بیجنگ، چینی دانشور کا اہم تجزیہ
چین عالمی سطح پر ٹنگسٹن کی سپلائی اور پروسیسنگ کے بڑے حصے پر قابض ہے، اور جب بیجنگ نے 2025 میں اس کی برآمدات پر پابندی لگائی تو عالمی مارکیٹ میں اس کی قیمتوں میں چھ سو چالیس فیصد تک اضافہ ہو گیا۔
واشنگٹن کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کانگریس اربوں ڈالر کے فنڈز تو منظور کر سکتی ہے، لیکن یہ رقم فوری طور پر نئی کانیں یا ریفائنریز پیدا نہیں کر سکتی۔
ٹنگسٹن کی سپلائی میں کمی کا مطلب یہ ہے کہ جدید ہتھیاروں کی تیاری سست ہو جائے گی اور دفاعی لاگت میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔
امریکہ اس وقت ایک ایسے جال میں پھنس چکا ہے، جہاں خام مال کے لیے اسے اپنے سب سے بڑے حریف یعنی چین پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
نئی کانیں کھولنے اور سپلائی چین کو دوبارہ ترتیب دینے میں دہائیاں لگ سکتی ہیں، جو امریکی دفاعی حکمت عملی کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












