بیجنگ نے دنیا کا پہلا ڈرون بردار جنگی جہاز بحیرہ جنوبی چین تعینات کردیا، امریکہ میں تشویش

چین نے دنیا کا پہلا انقلابی ڈرون بردار بحری جہاز جنوبی چین میں تعینات کر دیا ہے۔ یہ جہاز بنیادی طور پر بغیر پائلٹ کے طیاروں یعنی ڈرونز کے جھنڈ کو کنٹرول کرنے اور لانچ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
پیپلز لبریشن آرمی نیوی نے اپنی بحری طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جدید ترین ڈرون بردار جنگی جہاز ‘ٹائپ زیرو سیون سکس سیچوان’ کو ایک اہم تربیتی مشن پر بحیرہ جنوبی چین روانہ کر دیا ہے۔
یہ دنیا کا اپنی نوعیت کا پہلا بحری جہاز ہے، جس کا ڈیزائن عالمی سطح پر کسی بھی دوسرے ملک کے پاس موجود نہیں ہے۔ یہ جہاز بیک وقت ڈرون کیریئر اور ایک طاقتور ایمفیبیئس اسالٹ شپ کے طور پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : چین اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ کا جغرافیائی اور تزویراتی تقابل
توقع ہے کہ اس جہاز پر 28 سے 35 کے قریب طیارے اور ڈرون موجود ہوں گے، جو ابتدائی طور پر نگرانی اور حملے کی صلاحیت رکھیں گے، تاہم مستقبل میں اسے فضا سے فضا میں مار کرنے والے ڈرونز سے بھی لیس کیا جائے گا۔
14 نومبر 2025 کو کامیاب ٹرائلز کے بعد اب یہ جہاز بحیرہ جنوبی چین کے دشوار گزار موسمی حالات میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل کی مشقوں میں اسے ہیلی کاپٹروں اور دیگر بحری دستوں کے ساتھ مربوط کیا جائے گا، جبکہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ جہاز آبنائے تائیوان سے بھی گزرے گا۔
چین کی اس تیز رفتار ترقی نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بحر الکاہل میں ایک نئی حقیقت کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











