اسرائیل میں جبری فوجی بھرتیوں کیخلاف احتجاج، مظاہرین پولیس چیف کے گھر میں داخل

مقبوضہ عسقلان میں جبری فوجی بھرتیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے درجنوں ہریدی یہودیوں نے اسرائیلی ملٹری پولیس کے چیف کمانڈر کے گھر پر دھاوا بول دیا، جس کے نتیجے میں کمانڈر کی اہلیہ اور بچوں کو کمرے میں بند ہونا پڑا۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق مقبوضہ شہر عسقلان میں گزشتہ رات ہریدی مظاہرین کے ایک گروہ نے اسرائیلی فوج کے چیف ملٹری پولیس کمانڈر بریگیڈیئر جنرل یوآو یامین کی رہائش گاہ پر حملہ کر دیا۔
مظاہرین نے گھر کے صحن کی باڑیں عبور کیں اور اندر داخل ہو گئے۔ واقعے کے وقت فوجی کمانڈر گھر پر موجود نہیں تھے، تاہم ان کی اہلیہ اور بچوں نے مظاہرین کے خوف سے خود کو گھر کے اندر ایک کمرے میں بند کر لیا۔
اسرائیلی پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاج میں تقریباً دو سو افراد شامل تھے، جن میں سے کئی درجن افراد نے گھر کی حدود میں داخل ہو کر ہنگامہ آرائی کی۔ پولیس کو اس احتجاج کا پہلے سے علم تھا لیکن وہ مظاہرین کو رہائش گاہ میں داخل ہونے سے روکنے میں ناکام رہی۔
یہ احتجاج ہریدی یہودیوں کی جبری فوجی بھرتیوں اور ان افراد کی گرفتاریوں کے خلاف کیا جا رہا تھا، جو لازمی فوجی سروس سے انکار کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : لبنان میں اسرائیلی جارحیت جاری، خواتین و بچوں سمیت مزید 9 افراد شہید
اسرائیلی پولیس کمشنر نے اس واقعے کو ایک ’خطرناک سرخ لکیر‘ عبور کرنے کے مترادف قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ سیکورٹی حکام اور ان کے خاندانوں کو نشانہ بنانا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زمیر اور وزیر جنگ اسرائیل کاٹز نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور اسے ایک بڑا اشتعال انگیز واقعہ قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیلی حکومت فوجی نفری کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ہریدی مردوں کو بھی فوج میں شامل کرنے کے لیے قانون سازی کی کوشش کر رہی ہے، جنہیں ماضی میں استثنیٰ حاصل تھا۔
حکومت لازمی فوجی سروس کی مدت کو چھتیس ماہ تک بڑھانے کا منصوبہ بھی بنا رہی ہے۔ ہریدی مذہبی جماعتیں طویل عرصے سے حکومتی اتحاد میں اپنے اثر و رسوخ کو فوجی استثنیٰ برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرتی آئی ہیں، لیکن موجودہ جنگی صورتحال میں بڑھتے ہوئے فوجی مطالبات نے اس بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے۔
حالیہ مہینوں میں ہریدی کمیونٹی کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاج، سڑکوں کی بندش اور پولیس کے ساتھ تصادم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، لیکن فوجی حکام کے گھروں کو براہ راست نشانہ بنانا، اس احتجاجی تحریک میں ایک نیا اور خطرناک موڑ ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












