ایران نے امریکہ کا ناقابل تسخیر ہونے کا بھرم مٹی میں ملا دیا

تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری معاشی رسہ کشی میں ایران نے ایسے تزویراتی ہتھیاروں کا انتخاب کیا ہے، جو براہ راست امریکی معیشت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ سکتے ہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ تناؤ میں تزویراتی بحث جاری ہے کہ کس طرح تہران واشنگٹن کے ناقابل تسخیر ہونے کے افسانے کو چکنا چور کر سکتا ہے۔
پریس ٹی وی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، امریکہ ہمیشہ سے اپنے مخالفین کو کم لاگت کے طریقوں یعنی معاشی پابندیوں اور سمندری ناکہ بندیوں کے ذریعے زیر کرنے کا عادی رہا ہے، لیکن ایران کے معاملے میں یہ فارمولا ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اس کھیل کو یک طرفہ نہیں رہنے دے گا اور اس کے پاس ایسے تین بڑے تزویراتی اوزار موجود ہیں، جو براہ راست امریکی سرزمین پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : روسی صدر کا ایران کے یورینیم کو اپنے پاس ذخیرہ کرنے کی پیشکش
ایران کا پہلا اور سب سے بڑا ہتھیار آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ہے۔ چونکہ امریکی معیشت کا دارومدار تیل پر ہے، اس لیے اس حساس گزرگاہ میں ذرا سی بھی رکاوٹ تیل کی قیمتوں میں فوری اضافے کا باعث بنتی ہے، جس کا براہ راست اثر امریکی شہریوں کے کچن اور پورے صنعتی ڈھانچے پر پڑتا ہے۔
دوسرا آپشن باب المندب کی بندش ہے، جو عالمی تجارتی راستوں کو مفلوج کر کے قیمتوں کو آسمان تک پہنچا سکتا ہے۔ تیسرا اور سب سے اہم نکتہ خلیج فارس میں موجود امریکی اتحادیوں کی توانائی کی تنصیبات ہیں، جنہیں نشانہ بنا کر ایران نہ صرف ان ممالک کو بلکہ ان کے سرپرست امریکہ کو بھی شدید معاشی زک پہنچا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی معیشت اپنے دیوہیکل حجم کے باوجود توانائی کی قیمتوں میں ہونے والے معمولی جھٹکوں کے لیے بھی انتہائی حساس ہے، اور تہران اسی کمزوری کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











