پیر، 11-مئی،2026
پیر 1447/11/24هـ (11-05-2026م)

اسرائیل پر فلسطینیوں کو زندہ جلا کر بخارات بنانے والے ہتھیاروں کے استعمال کا الزام

11 مئی, 2026 13:54

غزہ اور لبنان میں جاری صیہونی جارحیت کے دوران اسرائیلی افواج پر ممنوعہ تھرمل اور تھرموبارک ہتھیاروں کے استعمال کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔

اسرائیلی دفاعی افواج پر غزہ اور لبنان میں انسانیت سوز مظالم کے ساتھ ساتھ ایسے ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کا الزام لگایا گیا ہے، جو انسانوں کو زندہ جلا کر بخارات میں تبدیل کر دیتے ہیں۔

الجزیرہ کی جانب سے کی جانے والی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کم از کم 2 ہزار 842 فلسطینی ایسے ممنوعہ تھرمل اور تھرموبارک ہتھیاروں کا نشانہ بنے، جن کے استعمال کے بعد ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔

ان ہتھیاروں کے پھٹنے سے تین ہزار ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد کی تپش پیدا ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں متاثرہ افراد کے اجسام اس حد تک جل جاتے ہیں کہ ان کی ہڈیاں بھی نہیں بچتیں اور وہ دھوئیں یا بخارات کی صورت اختیار کر جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : اسرائیل کی وجہ سے امریکی فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، معروف صحافی

یہی وہ پہلو تھا، جس نے عالمی تفتیش کاروں کو اپنی جانب متوجہ کیا کیونکہ بمباری کے مقامات سے لاشوں کے کوئی باقیات نہیں مل رہے تھے۔

تحقیقات کے مطابق اسرائیل کی جانب سے ایم کے چوراسی بم استعمال کیے جا رہے ہیں، جو ٹرائینوٹل سے بھرے ہوتے ہیں، یہ ٹی این ٹی اور ایلومینیم پاؤڈر کا ایک ایسا مرکب ہے، جو دھماکے کے وقت شدید ترین حرارت پیدا کرتا ہے۔

اس کے علاوہ بی ایل یو 109 نامی بنکر بسٹر بم بھی استعمال کئے گئے، جن کا درجہ حرارت پینتیس سو ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر جاتا ہے۔

چھوٹے قطر والے جی بی یو انتالیس بم بھی اس ہولناک کارروائی کا حصہ رہے ہیں، جو دباؤ اور حرارتی لہروں کے امتزاج سے انسانوں کو ختم کرتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ اکتوبر 2023 میں غزہ کی بندرگاہ اور جنوبی لبنان میں سفید فاسفورس کے استعمال کے دستاویزی ثبوت بھی سامنے آئے ہیں، جبکہ مارچ 2026 میں بھی جنوبی لبنان کے رہائشی علاقوں میں اس ممنوعہ بارود کا استعمال کیا گیا، جو عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔