منگل، 12-مئی،2026
منگل 1447/11/25هـ (12-05-2026م)

شمالی کوریا کا کم جونگ اُن کو نشانہ بنانے کی صورت میں ایٹمی حملے کا اعلان

12 مئی, 2026 08:03

شمالی کوریا نے اپنی جوہری پالیسی میں اہم اور سخت تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر سربراہ کم جونگ اُن کو کسی غیر ملکی حملے میں نشانہ بنایا گیا تو فوری اور خودکار ایٹمی ردعمل دیا جائے گا۔

شمالی کوریا نے اپنی آئینی پالیسی میں ایک بڑی اور غیر معمولی تبدیلی کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ اگر ملک کے سربراہ کم جونگ اُن کو کسی غیر ملکی دشمن کی جانب سے قتل کیا جاتا ہے یا وہ کسی حملے میں معذور  ہو جاتے ہیں تو فوج فوری اور خودکار طور پر جوہری حملہ کرے گی۔

یہ ترمیم اُس پس منظر میں کی گئی، جب ایران میں امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملوں کے آغاز میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے قریبی مشیروں کو نشانہ بنایا گیا۔

اس واقعے نے شمالی کوریا کی قیادت کو اپنی سلامتی کے حوالے سے مزید حساس بنا دیا اور اسی تناظر میں جوہری پالیسی کو مزید سخت اور واضح شکل دی گئی۔

یہ آئینی ترمیم 22 مارچ کو پیانگ یانگ میں منعقد ہونے والے سپریم پیپلز اسمبلی کے 15ویں اجلاس کے پہلے سیشن میں منظور کی گئی، جسے بعد ازاں جنوبی کوریا کی حکومت کے اعلیٰ حکام کو نیشنل انٹیلی جنس سروس کی بریفنگ میں ظاہر کیا گیا۔

اس بریفنگ کے مطابق اگرچہ کم جونگ اُن کے پاس جوہری افواج کا مکمل کنٹرول ہے، تاہم اس نئی شق کے تحت یہ طے کر دیا گیا ہے کہ اگر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم خطرے میں پڑے تو فوری جوہری ردعمل دیا جائے گا۔

جوہری پالیسی کے نظرثانی شدہ آرٹیکل کے مطابق اگر ریاستی جوہری افواج کے کنٹرول کے نظام کو دشمن قوتوں کے حملوں سے خطرہ لاحق ہو تو بغیر کسی تاخیر کے خودکار اور فوری جوہری حملہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی کی قیادت کر رہے ہیں، امریکی خفیہ ادارے

ماہرین کے مطابق یہ پالیسی پہلے بھی کسی حد تک موجود تھی، مگر اب اسے آئینی تحفظ دے کر مزید سخت اور ناقابلِ تبدیل بنا دیا گیا ہے۔

سیول کی کوکمن یونیورسٹی کے پروفیسر آندرے لنکوف کے مطابق ایران میں ہونے والے حملے شمالی کوریا کے لیے ایک وارننگ ثابت ہوئے، جہاں امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں نے انتہائی مؤثر انداز میں ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا نے اس کارروائی کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی میں فوری تبدیلی کی ہے اور اب وہ کسی بھی ممکنہ خطرے کے لیے تیار رہنا چاہتا ہے۔

شمالی کوریا کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جیسا حملہ وہاں دہرانا کہیں زیادہ مشکل ہوگا، کیونکہ ملک کی سرحدیں تقریباً مکمل طور پر بند ہیں اور بیرونی دنیا سے آنے والے افراد پر سخت نگرانی رکھی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ پیانگ یانگ میں سی سی ٹی وی نظام محدود ہے اور انٹرنیٹ سخت کنٹرول میں ہے، جس کے باعث خفیہ معلومات حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

کم جونگ اُن اپنی ذاتی سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی محتاط سمجھے جاتے ہیں، وہ ہمیشہ مسلح محافظوں کے حصار میں رہتے ہیں، ہوائی سفر سے گریز کرتے ہیں اور عموماً بکتر بند ٹرین کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق شمالی کوریا کو سب سے بڑا خطرہ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سے ہے، جس کے ذریعے قیادت کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب شمالی کوریا نے جنوبی سرحد کے قریب ایک نئے طرز کے توپ خانے کی تنصیب کا بھی اعلان کیا ہے، جس سے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول کو براہ راست خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق کم جونگ اُن نے حال ہی میں ایک اسلحہ ساز فیکٹری کا دورہ کیا، جہاں 155 ملی میٹر کی نئی خودکار توپ کا جائزہ لیا گیا، جس کی رینج 37 میل سے زائد بتائی جا رہی ہے۔

یہ نیا ہتھیار رواں سال جنوبی کوریا کی سرحد کے قریب تعینات کیا جائے گا، جس کے بعد سیول سمیت گیونگی صوبے کے بڑے صنعتی علاقے اس کی زد میں آ جائیں گے۔ کم جونگ اُن کے مطابق یہ اسلحہ زمینی جنگی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی اور برتری فراہم کرے گا۔

یاد رہے کہ شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان 1950 سے 1953 تک جاری رہنے والی جنگ کا اختتام امن معاہدے کے بجائے صرف جنگ بندی پر ہوا تھا، جس کے باعث دونوں ممالک آج بھی تکنیکی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں، اور حالیہ پیش رفت نے اس کشیدگی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔