چینی اور روسی بحریہ کا مقابلہ کرنے کیلئے امریکہ کے پاس جدید آبدوزوں کی شدید کمی

امریکی بحریہ کی سب میرین فورس اس وقت شدید بحران کا شکار ہے کیونکہ پرانی آبدوزیں ریٹائر ہو رہی ہیں اور نئی آبدوزوں کی تیاری میں غیر معمولی تاخیر کا سامنا ہے، امریکہ کی سمندری برتری خطرے میں پڑ گئی ہے۔
امریکی بحریہ کی زیرِ سمندر طاقت میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے واشنگٹن کی تزویراتی دفاعی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔
اوہائیو کلاس اور لاس اینجلس کلاس کی پرانی آبدوزیں بیڑے سے نکالی جا رہی ہیں، جبکہ ان کی جگہ لینے والی نئی ورجینیا کلاس آبدوزوں کی تعمیر میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے۔
سرد جنگ کے خاتمے پر امریکہ نے 29 ‘سی وولف’ آبدوزیں بنانے کا منصوبہ بنایا تھا، جو دنیا کی مہلک ترین آبدوزیں مانی جاتی تھیں، لیکن اخراجات کی کمی کی وجہ سے صرف تین آبدوزیں بنائی گئیں، جو اب امریکی بحریہ کے لیے ایک پچھتاوا بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : چین ایران پر دباؤ کیلئے امریکہ کا کبھی ساتھ نہیں دے گا، اوبامہ کے سابق مشیر
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق یو ایس ایس بوائس نامی آبدوز کی مرمت پر آٹھ سو ملین ڈالر خرچ ہو چکے ہیں اور اسے مکمل کرنے کے لیے مزید ایک اعشاریہ نو ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
اس کا مطلب ہے کہ 1992 میں کمیشن ہونے والی ایک پرانی آبدوز پر مجموعی طور پر دو اعشاریہ سات ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔ دوسری جانب ورجینیا کلاس آبدوزوں کی پیداوار کا ہدف سالانہ دو آبدوزیں تھا، لیکن صنعتی مسائل کی وجہ سے یہ ہدف پورا نہیں ہو پا رہا۔
امریکی بحریہ کی اس کمزوری کا براہ راست فائدہ روس اور چین اٹھا رہے ہیں۔ چین اپنی سب میرین فورس کو تیزی سے جدید بنا رہا ہے، جبکہ روس نے نئی بیلسٹک میزائل آبدوزیں سمندر میں اتار دی ہیں۔
آبدوزوں کی تعداد میں یہ کمی امریکہ کی سمندری حکمرانی اور دشمن کو روکنے کی صلاحیت کو کمزور کر رہی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں زیرِ سمندر کسی بھی تصادم میں امریکہ کو اپنے حریفوں کے مقابلے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












