ایران جنگ اور ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی، امریکی عوام کیلئے کچن کا بجٹ سنبھالنا مشکل ہوگیا

امریکی عوام اس وقت شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ ایران کے ساتھ کشیدگی اور ٹرمپ انتظامیہ کے نئے ٹیرف کی وجہ سے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
امریکی عوام کو ایک بار پھر شدید مہنگائی کا سامنا ہے، اور اس بار اس کی بڑی وجہ ٹرمپ انتظامیہ کی ایران کے حوالے سے سخت پالیسیاں اور نئے تجارتی ٹیرف ہیں۔
ٹماٹروں کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر پچیس فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ ٹماٹروں کی درآمد پر سترہ فیصد نئے ٹیرف کا نفاذ ہے۔ چونکہ امریکہ اپنی ضرورت کا نوے فیصد ٹماٹر میکسیکو سے منگواتا ہے، اس لیے اس فیصلے نے براہ راست صارفین کی جیب پر اثر ڈالا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سطح پر توانائی کے اخراجات بڑھا دیے ہیں۔
اس بحران کے اثرات پوری سپلائی چین میں دیکھے جا رہے ہیں۔ کسانوں کے لیے کھاد کے اخراجات چالیس فیصد تک بڑھ چکے ہیں جبکہ ٹریکٹروں کے لیے ڈیزل کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : صہیونی تنظیم کا نائن الیون حملوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہونے کا دعویٰ
پیکیجنگ کی صنعت، جو زیادہ تر پلاسٹک پر منحصر ہے، اس کے اخراجات میں بھی چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے کیونکہ پلاسٹک کی تیاری میں خام تیل استعمال ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے گوشت اور دودھ جیسی اشیا کی قیمتیں بھی مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔
سپر مارکیٹیں ان اضافی اخراجات کا بوجھ براہ راست صارفین پر منتقل کر رہی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں کورونا وبا سے پہلے کے مقابلے میں ایک تہائی زیادہ ہو چکی ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ، جس نے مہنگائی کم کرنے کے وعدے پر مہم چلائی تھی، اب ان قیمتوں کا ذمہ دار کھاد بنانے والی کمپنیوں اور گوشت پیک کرنے والے اداروں کو ٹھہرا رہی ہے۔
تاہم، عوامی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ واشنگٹن کے جنگی فیصلوں اور ٹیرف کی وجہ سے ہی ان کا کچن بجٹ متاثر ہو رہا ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












