اتوار، 17-مئی،2026
اتوار 1447/11/30هـ (17-05-2026م)

اسرائیل کی شرکت کیخلاف پانچ ممالک کا بائیکاٹ، یوروویژن فائنل شدید تنازعات کا شکار

17 مئی, 2026 13:45

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں یوروویژن سونگ مقابلے کا فائنل شدید تنازعات اور احتجاج کی زد میں آیا، اسرائیل کی شرکت کے خلاف پانچ بڑے ممالک نے ایونٹ کا مکمل بائیکاٹ کر دیا ہے۔

موسیقی اور پاپ گروپس کا سب سے بڑا اور روایتی عالمی مقابلہ یوروویژن سونگ کانٹیسٹ اپنے سترہویں سال میں داخل ہونے کے باوجود اس وقت تاریخ کے بدترین بحران اور سیاسی تقسیم کا شکار ہو چکا ہے۔

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں منعقد ہونے والے اس فائنل ایونٹ پر سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے اور اس کے بعد غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ جنگ کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی شہادت اور بڑے پیمانے پر تباہی کے خلاف عالمی سطح پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

اسی عوامی دباؤ اور احتجاج کے باعث اسپین، نیدرلینڈز، آئرلینڈ کے سرکاری اور قومی نشریاتی اداروں کے ساتھ ساتھ آئس لینڈ اور سلووینیا نے بھی مقابلے میں اسرائیل کی شمولیت کے خلاف احتجاجاً اس بڑے ایونٹ کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

اسپین کے وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں واضح کیا ہے کہ ان کا ملک ویانا کے اس مقابلے میں موجود نہیں ہوگا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ تاریخ کے درست رخ پر کھڑے ہیں، جبکہ دوسری جانب اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے عالمی سطح پر بدنام کرنے کی منظم مہم کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : لبنان میں حزب اللہ کا بڑا آپریشن، متعدد اسرائیلی ٹینک اور بلڈوزر تباہ، فوج تنصیبات بھی نشانہ

اس وسیع پیمانے پر کیے جانے والے بائیکاٹ کے باعث یوروویژن مقابلے میں حصہ لینے والے ممالک کے شرکاء کی تعداد سکڑ کر محض پینتیس رہی، جو 2003 کے بعد سے اب تک کی دو دہائیوں میں سب سے کم ترین تعداد ہے۔

اس صورتحال کی وجہ سے اس سال ٹی وی ناظرین کی تعداد میں بھی کروڑوں کی بڑی کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ گزشتہ سال اسے سولہ کروڑ سے زائد لوگوں نے دیکھا تھا۔

مقابلے کے ڈائریکٹر مارٹن گرین نے رائٹرز نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ وہ اس وقت انتہائی مشکل اور دباؤ کی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔

فائنل کے دوران ویانا ہال کے اندر منگل کو اس وقت مختصر بدنظمی اور ہلکی کشیدگی دیکھی گئی، جب ایک مظاہرین نے ٹی وی مائیکروفون کے قریب پہنچ کر نسل کشی بند کرو اور فلسطین آزاد کرو کے فلک شگاف نعرے لگائے، جس کے بعد انتظامیہ نے تین افراد کو ہال سے باہر نکال دیا۔

اسرائیلی امیدوار نوام بیتان نے بھی اعتراف کیا کہ اسٹیج پر آتے وقت انہیں ہجوم کی جانب سے شدید مخالفانہ آوازیں اور ہوٹنگ سننا پڑی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ فن اور موسیقی کا یہ عالمی اسٹیج اب اسرائیل کے خلاف شدید نفرت اور بائیکاٹ کا مرکز بن چکا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔