امریکہ نے اقوام متحدہ کی خاتون مبصر فرانسسکا البانیز پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں لگا دیں

امریکہ نے عالمی فوجداری عدالت سے متعلق اقدامات کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی مبصر فرانسسکا البانیز پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے غیر ملکی اثاثوں کے کنٹرول کے دفتر نے اقوام متحدہ کی خاتون مبصر فرانسسکا البانیز کا نام ایک بار پھر اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ امریکی اپیلز کورٹ کی جانب سے اس سابقہ عدالتی فیصلے کو معطل کرنے کے بعد سامنے آیا ہے، جس نے عارضی طور پر ان پابندیوں کو روکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : اقوام متحدہ کے سابق عہدیدار کا پاکستانی قیادت کیلئے نوبل امن انعام کا مطالبہ
اس سے قبل ایک وفاقی جج نے آزادی اظہار کی بنیاد پر ان پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے معطل کر دیا تھا، تاہم اب اپیلز کورٹ نے واشنگٹن کو مزید قانونی کارروائی تک پابندیاں برقرار رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔
ان پابندیوں کے تحت فرانسسکا البانیز کے امریکہ میں داخلے اور وہاں بینکنگ سرگرمیوں پر مکمل پابندی ہوگی۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ پابندیاں عالمی فوجداری عدالت میں امریکی اور اسرائیلی شہریوں کے خلاف رضامندی کے بغیر تحقیقات شروع کرانے کی کوششوں اور غزہ جنگ سے متعلق بیانات کی وجہ سے لگائی گئی ہیں۔
دوسری طرف اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ماہرین نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی اداروں کی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ فرانسسکا البانیز نے غزہ جنگ کو جدید تاریخ کی بے رحم ترین نسل کشی قرار دیا تھا اور امریکی کمپنیوں پر اس نسل کشی میں ملوث ہونے کا الزام بھی لگایا تھا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









