ایران سے مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے لیکن اختلافات برقرار ہیں، امریکی نائب صدر

امریکی نائب صدر نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات پر شدید اختلافات کے باوجود گہری رجائیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بات چیت آگے بڑھ رہی ہے، تاہم حتمی معاہدے تک نہیں پہنچے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے، حالانکہ یورینیم کی افزودگی جیسے اہم ترین معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اب بھی بڑے اور گہرے اختلافات موجود ہیں۔
انہوں نے اینڈریوز فضائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ممکنہ معاہدے کی تحریر اور مختلف شقوں کے حوالے سے امریکہ اور ایران کے درمیان مسلسل بحث و تکرار جاری ہے، لیکن ان کا خیال ہے کہ ایران اب تک نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ابتدائی مفاہمت کی یادداشت پر کب دستخط کریں گے کیونکہ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے اور افزودگی کے سوال پر دونوں اطراف میں اب بھی بات چیت چل رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : صدر ٹرمپ کیلئے ایران سے کمزور ڈیل قابل قبول نہیں ہوگی، امریکی وزیر خزانہ
دوسری جانب ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع نے تسنیم نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ مغربی میڈیا کے دعوؤں کے برعکس امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کا مسودہ ابھی نامکمل ہے اور تہران نے اس کی کوئی منظوری نہیں دی اور نہ ہی اس بارے میں پاکستانی ثالث کو کوئی تصدیق بھیجی گئی ہے۔
ایرانی میڈیا ٹیم کے رکن سعید اجورلو نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے منجمد اثاثے واپس نہ کیے تو معاہدے میں ایک ایسی شق شامل کی جائے گی، جس کے تحت ایران اس سے پیچھے ہٹ جائے گا اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں آبنائے ہرمز میں اپنے پرانے اقدامات دوبارہ شروع کر دے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران نے جاری مذاکرات میں کوئی جوہری عزم یا وعدہ نہیں کیا ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے حالیہ باہمی حملوں کے باوجود کہا کہ جنگ بندی ابھی قائم ہے کیونکہ ایسے معاہدوں میں تھوڑی بہت بدمزگی اور جھڑپیں عام بات ہوتی ہیں، لیکن امریکہ دفاعی حملوں کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








