شدید سردی میں کپڑے اتروائے، پانی ڈالا اور گھٹنوں کے بل بٹھایا، اسرائیلی قید سے رہا ہونے والی خاتون

غزہ امدادی مشن کے دوران اسرائیلی جیل سے رہا ہونے والی صمود فلوٹیلا کی ایک غیر ملکی کارکن نے صیہونی جیلوں میں مرد اور خواتین قیدیوں پر ہونے والے بدترین جسمانی اور جنسی تشدد کے ہولناک احوال بیان کیے ہیں۔
غزہ کے لیے امداد لے جانے والے بحری بیڑے صمود فلوٹیلا کے رہا ہونے والے کارکنوں نے اسرائیلی قید خانوں کے اندر ہونے والے انسانیت سوز مظالم کی ہولناک کہانیاں دنیا کے سامنے رکھ دی ہیں۔
اسرائیلی جیل سے رہائی کے بعد استنبول پہنچنے والے ایک غیر ملکی خاتون کارکن نے شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے کئی بھائیوں اور بہنوں کو صیہونی قید میں پیچھے چھوڑ آئے ہیں، جن کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی جیلر قیدیوں کو مارنے پیٹنے اور ان پر بدترین جنسی تشدد کرنے میں دلی خوشی محسوس کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : لبنانی شہریوں کے گھروں کو لوٹنا اسرائیلی فوج کا کلچر بن گیا، اخباری رپورٹ میں انکشاف
ان کا کہنا تھا کہ صیہونی فوجیوں نے غیر ملکی پاسپورٹ رکھنے والے معزز سماجی کارکنوں کے ساتھ بھی یہ شرمناک سلوک کیا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ عام فلسطینی قیدیوں کے ساتھ کتنی زیادہ درندگی کرتے ہوں گے۔
خاتون کارکن کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے ان کے تمام کپڑے اتروا دیئے، انہیں شدید سردی کے موسم میں برفیلے پانی کی بوچھاڑ کا نشانہ بنایا اور سر زمین پر رکھ کر گھٹنوں کے بل بیٹھنے پر مجبور کیا۔
خاتوں نے مزید بتایا کہ فوجیوں نے انہیں صاف الفاظ میں دھمکی دی تھی کہ اگر کسی نے بھی اپنا سر اٹھایا تو اسے سیدھی گولی مار دی جائے گی۔
ان کا کہنات تھا کہ اس وقت بھی تقریباً دس ہزار فلسطینی قیدی صیہونیوں کے ہاتھوں ان ہولناک سزاؤں کو جھیل رہے ہیں، جن میں سینکڑوں معصوم بچے بھی شامل ہیں، جن کی عمریں محض دو سال تک ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








