لبنانی شہریوں کے گھروں کو لوٹنا اسرائیلی فوج کا کلچر بن گیا، اخباری رپورٹ میں انکشاف

اسرائیلی اخبار نے صیہونی فوجیوں کے اعترافات پر مبنی ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس کے مطابق جنوبی لبنان میں لبنانی شہریوں کے گھروں کو لوٹنا اور املاک کو تباہ کرنا اسرائیلی فوج کے کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں عالمی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے لوٹ مار اور تباہی کو اپنا باقاعدہ جنگی کلچر بنا لیا ہے۔
اسرائیلی اخبار ہاریٹز کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، پانچ اسرائیلی فوجیوں کے بیانات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ صیہونی کمانڈرز اپنے فوجیوں کی جانب سے کی جانے والی لوٹ مار پر جان بوجھ کر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔
ایک اسرائیلی فوجی نے اعتراف کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں لوٹنے کے لیے چیزوں کی کوئی کمی نہیں تھی اور صیہونی فوجی لبنانیوں کے قیمتی قالین، موٹر سائیکلیں، صوفے اور چولہے اپنی فوجی گاڑیوں پر لاد کر لے جا رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : فرانس نے اسرائیلی انتہا پسند وزیر ایتمار بن غویر کے داخلے پر پابندی عائد کر دی
ایک دوسرے فوجی نے بتایا کہ لبنانی قصبوں سے سارا قیمتی سامان لوٹ کر فوجی چوکیوں تک پہنچانا ایک غیر سرکاری مشن بن چکا تھا۔
رپورٹ کے مطابق کسی بھی وقت فوجیوں کو لبنانی شہریوں کا ذاتی سامان اٹھا کر گاؤں میں گھومتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔
ایک اور فوجی نے شرمناک اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی دفاعی افواج اب ایک قدیم لٹیرے قبیلے کی طرح بن چکی ہیں، جہاں فوجیوں کو اس لیے لوٹ مار کی اجازت دی جاتی ہے تاکہ وہ خوش رہیں اور جنگ جاری رکھیں۔
اس کے علاوہ خالی دیہاتوں میں جہاں کوئی مزاحمت کار موجود نہیں تھا، وہاں بھی گھروں کو بارود سے اڑا کر زمین بوس کرنا اسرائیلی فوج کا اصل مشن بن چکا تھا۔
یہ کارروائیاں جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 33 کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جو جنگ کے دوران لوٹ مار کو سختی سے روکتا ہے، جبکہ عالمی عدالت کے قوانین کے تحت بھی یہ ایک سنگین جنگی جرم ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








