ٹرمپ کے مطالبات ماننے کے پابند نہیں، مسودے میں اپنی ترامیم شامل کریں گے، ایران

ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں معاہدے کے موجودہ مسودے میں مزید ترامیم پیش کرے گا، امریکی مطالبات کو تسلیم کرنے کا پابند نہیں ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، تاہم تہران حکومت اس وقت تک کسی معاہدے کو قبول نہیں کرے گی، جب تک اس کی اپنی مجوزہ ترامیم کو شامل نہیں کیا جاتا۔
ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکراتی فریم ورک کا جائزہ لینے کے بعد اس میں کچھ سخت شرائط کا اضافہ کیا ہے، جن میں ایران کے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخائر کو تلف کرنے اور آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے بلا روک ٹوک کھولنے کے مطالبات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایٹمی پروگرام پر امریکا سے کوئی وعدہ نہیں کیا، ایرانی سیکیورٹی کونسل
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ترامیم کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ایران انہیں اسی شکل میں مان لے گا۔ ایران اپنے سویلین ایٹمی پروگرام کے تحت یورینیم کی افزودگی کا حق رکھتا ہے اور اس کا ایٹمی ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ذرائع نے یہ بھی واضح کیا کہ تہران مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں متبادل منصوبے کے لیے بھی پوری طرح تیار ہے اور وہ صرف ان مذاکرات پر انحصار نہیں کر رہا۔
دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ معاہدے کے لیے کسی جلدی میں نہیں ہیں کیونکہ اچھے متبادل کے حصول کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، تاہم انہوں نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر سفارتکاری ناکام ہوئی تو فوجی کارروائی کا آپشن اب بھی کھلا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










