یو اے ای نے دوران جنگ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملے کیئے، رپورٹ

امریکی اخبار کے مطابق ایران کے ساتھ فعال تنازع کے دوران متحدہ عرب امارات نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے مختلف اہم ٹھکانوں پر درجنوں خفیہ فضائی حملے کیے۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے سرگرم مرحلے سے لے کر اپریل میں جنگ بندی کے اگلے دن تک متحدہ عرب امارات نے ایران کی حدود میں درجنوں فضائی حملے کیے۔
ان تمام کارروائیوں کے لیے انٹیلیجنس اور خفیہ معلومات امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فراہم کی گئی تھیں۔ اماراتی فضائی حملوں میں قشم اور ابو موسیٰ کے جزائر، بندر عباس، لاوان جزیرے پر قائم تیل صاف کرنے والے کارخانے اور عسلویہ کے پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، لبنان پر اسرائیلی حملوں پر تشویش کا اظہار
ان فوجی حملوں کے علاوہ متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کی اس قرارداد کے مسودے کی بھی کھل کر حمایت کی، جس میں ایران کی جانب سے ہرمز کی پٹی کی ناکہ بندی کو توڑنے کے لیے طاقت کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی۔
اماراتی حکومت نے صرف فوجی سطح پر ہی نہیں بلکہ اپنے ملک کے اندر ایرانی معاشی مفادات کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
اس سلسلے میں تہران سے وابستہ اسکولوں اور کلبوں کو بند کر دیا گیا ہے، جبکہ ایرانی شہریوں کے لیے ویزوں اور اپنے ملک سے گزرنے کے حقوق یعنی ٹرانزٹ رائٹس کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔
اس صورتحال کے جواب میں ایران نے مسلسل متحدہ عرب امارات کی مذمت کی ہے اور اس پر امریکہ اور اسرائیل کی مہم کا حصہ بننے کا الزام عائد کیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












