برطانیہ میں اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی کیخلاف احتجاج پر فلسطین ایکشن گروپ کے 4 کارکنوں کو قید کی سزا

برطانیہ کی ایک عدالت نے غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کے خلاف احتجاج کرنے والے فلسطین ایکشن گروپ کے 4 انسانی حقوق کے کارکنوں کو قید کی سخت سزائیں سنا دی ہیں۔
برطانیہ کی ایک عدالت نے اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والی سب سے بڑی کمپنی البٹ سسٹمز کی برسٹل میں واقع تنصیبات کے باہر احتجاج کرنے پر فلسطین ایکشن گروپ کے 4 سرگرم کارکنوں کو قید کی سزائیں سنائی ہیں۔
ان کارکنوں پر الزام تھا کہ انہوں نے اگست 2024 میں احتجاج کے دوران کمپنی کے 10 لاکھ پاؤنڈ مالیت کے کمپیوٹرز، ڈرونز اور دیگر آلات کو نقصان پہنچایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : اکتوبر سے جاری جنگ بندی کے باوجود غزہ میں فلسطینی شہریوں کی نسل کشی
یاد رہے کہ البٹ سسٹمز نامی یہ اسرائیلی کمپنی غزہ میں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی اور جنگی جرائم کیلئے 85 فیصد زمینی فوجی سازوسامان اور ڈرونز سپلائی کرتی ہے۔
مقدمے کی سماعت کے دوران جج جرمی جانسن نے اس پرامن احتجاج کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا اور ایک پولیس اہلکار کو زخمی کرنے کے الزام میں 23 سالہ کارکن سیموئیل کارنر کو 7 سال 8 ماہ قید کی سخت سزا سنائی جبکہ دیگر کارکنوں شارلٹ ہیڈ اور لیونا کامیئو کو 5، 5 سال اور فاطمہ رضوانی کو 4 سال 8 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔
اس فیصلے کے خلاف عدالت کے باہر 500 سے زائد افراد نے شدید احتجاج کیا، جس کے بعد پولیس نے مظاہرین کے ساتھ یکجہتی دکھانے والے 107 افراد کو گرفتار کر لیا، جبکہ برطانوی حکومت اس تنظیم پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت مستقل پابندی لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










