ایران نے امریکہ ساتھ تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا پورا متن جاری کردیا

ایران اور امریکہ کے درمیان مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم کرنے اور مستقل امن قائم کرنے کیلئے طے پانے والے تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا مکمل متن جاری کر دیا گیا۔
ایران اور امریکہ نے خطے کے تمام محاذوں پر جنگ ختم کرنے اور وسیع مذاکرات شروع کرنے کیلئے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی کی طرف سے جاری کردہ اس معاہدے کے متن میں مستقل جنگ بندی، پابندیوں کے خاتمے، سمندری سلامتی، ایٹمی مذاکرات اور اگلے 60 دنوں میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کا پورا طریقہ کار بتایا گیا ہے۔
معاہدے کے متن کے مطابق امریکہ، ایران اور ان کے اتحادی تمام محاذوں بشمول لبنان میں فوری اور مستقل طور پر فوجی آپریشنز بند کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔
دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف طاقت کا استعمال یا دھمکی نہ دینے اور لبنان کی خود مختاری کا احترام کرنے کے پابند ہوں گے۔ حتمی معاہدے میں اس جنگ بندی کی مستقل توثیق کی جائے گی۔
دونوں ممالک ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں گے۔
دونوں فریقین نے زیادہ سے زیادہ 60 دنوں کے اندر حتمی ڈیل تک پہنچنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع کی جا سکتی ہے۔
معاہدے پر دستخط ہوتے ہی امریکہ ایران کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی اور تمام رکاوٹیں دور کرنا شروع کرے گا اور 30 دن کے اندر اس ناکہ بندی کو مکمل ختم کر دیا جائے گا۔ اس دوران بحری جہازوں کی آمد و رفت جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر بحال کی جائے گی۔
امریکہ حتمی ڈیل کے 30 دن کے اندر ایران کے قریبی علاقوں سے اپنی فوجیں ہٹانے کا بھی پابند ہوگا۔ دوسری طرف ایران 60 دنوں کیلئے خلیج فارس سے عمان کے سمندر تک تجارتی جہازوں کے محفوظ اور مفت گزرنے کے انتظامات کرے گا۔
تکنیکی اور فوجی رکاوٹوں اور بارودی سرنگوں کی صفائی کے بعد تجارتی جہاز رانی 30 دن میں بحال ہوگی۔ ایران آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور سمندری خدمات کیلئے سلطنت عمان اور خلیج کے دیگر ساحلی ممالک کے ساتھ عالمی قوانین کے مطابق بات چیت کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ نے ایک ہی رات میں ایران پر لگی پابندیاں ختم کر دیں، معاہدہ توڑنے پر سخت جواب دیں گے، ایرانی اسپیکر
امریکہ اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایران کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کیلئے کم از کم 300 ارب ڈالر کا ایک متفقہ منصوبہ تیار کرے گا، جس کا طریقہ کار 60 دن میں طے ہوگا۔ اس کیلئے تمام ضروری مالیاتی لین دین کے لائسنس اور اجازت نامے امریکہ خود جاری کرے گا۔
امریکہ ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کی قراردادوں اور تمام یکطرفہ امریکی پابندیوں کو ایک طے شدہ شیڈول کے تحت مکمل ختم کرنے کا پابند ہوگا۔ دونوں ممالک نے ان مسائل کو فوری حل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایران نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار حاصل کرے گا، نہ ہی بنائے گا۔ دونوں ممالک نے افزودہ مواد کے ذخیرے کو ٹھکانے لگانے کے طریقہ کار پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں موقع پر ہی مواد پر کام کیا جائے گا۔
ایٹمی ضروریات اور افزودگی کے معاملے پر حتمی معاہدے میں بات چیت کی جائے گی۔ حتمی ڈیل ہونے تک موجودہ صورتحال برقرار رہے گی، ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو موجودہ سطح پر روکے رکھے گا اور امریکہ کوئی نئی پابندی یا خطے میں مزید فوجیں تعینات نہیں کرے گا۔
معاہدے پر دستخط ہوتے ہی امریکی محکمہ خزانہ ایرانی خام تیل، پٹرولیم مصنوعات کی برآمد اور اس سے منسلک بینکنگ، انشورنس اور ٹرانسپورٹ کی خدمات کیلئے فوری رعایتیں یا لائسنس جاری کرے گا۔
امریکہ ایران کے تمام منجمد یا روکے گئے اثاثوں اور فنڈز کو فوری طور پر بحال کرے گا اور یہ رقم ایرانی مرکزی بینک کے بتائے ہوئے کھاتوں میں منتقل کی جائے گی تاکہ اسے مکمل استعمال کیا جا سکے۔
معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کیلئے ایک مشترکہ انتظامی کمیٹی بنائی جائے گی اور حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












