منگل، 23-جون،2026
منگل 1448/01/08هـ (23-06-2026م)

درآمدی موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی

23 جون, 2026 09:31

وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں درآمدی موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 یہ نئی شرح یکم جولائی 2026 سے نافذ ہوگی۔ اس فیصلے کے بعد مہنگے درآمدی اسمارٹ فونز خریدنے والے صارفین کو قیمتوں میں واضح کمی کا فائدہ ملنے کی توقع ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ ڈیوٹی میں کمی کے باعث بعض ہائی اینڈ موبائل فونز کی قیمت تقریباً 14 ہزار روپے تک کم ہو سکتی ہے۔ اس اقدام سے صارفین کو کچھ ریلیف ضرور ملے گا، تاہم حکومت نے ٹیکس نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ موجودہ ٹیکس ڈھانچہ حکومتی آمدن کے لیے مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔ اسی لیے موبائل فونز پر عائد دیگر ٹیکسوں اور ڈیوٹی کی شرح میں مزید تبدیلی کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ اگر مہنگے درآمدی فونز پر زیادہ رعایت دی گئی تو اس کا فائدہ زیادہ تر خوشحال طبقے کو ہوگا جبکہ قومی خزانے کی آمدن متاثر ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں کسی اضافی ریلیف پر غور کیا گیا تو اسے صرف 31 سے 200 ڈالر قیمت والے ابتدائی درجے کے اسمارٹ فونز تک محدود رکھا جائے گا۔ اس سے کم آمدنی والے افراد اور پہلی مرتبہ اسمارٹ فون خریدنے والے صارفین کو زیادہ فائدہ پہنچے گا۔

راشد محمود لنگڑیال کے مطابق پاکستان میں استعمال ہونے والے تقریباً 95 فیصد موبائل فونز مقامی طور پر اسمبل کیے جاتے ہیں، جبکہ صرف 5 فیصد فونز بیرون ملک سے درآمد ہوتے ہیں۔ مقامی موبائل اسمبلنگ صنعت سستے اسمارٹ فونز کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، اس لیے CKD اور SKD اسکیموں کے تحت دی جانے والی سہولتیں برقرار رکھی جائیں گی۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے دوران موبائل فونز کی درآمد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ درآمد شدہ فونز کی تعداد 6 لاکھ 40 ہزار سے بڑھ کر 10 لاکھ 40 ہزار تک پہنچ گئی، جو 61 فیصد اضافہ ہے۔ اسی عرصے میں درآمدی مالیت میں 137 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ موبائل فونز سے حاصل ہونے والی ڈیوٹی اور ٹیکس کی وصولی بھی 136 فیصد بڑھ کر 36.9 ارب روپے تک پہنچ گئی۔

ایف بی آر کے مطابق 500 ڈالر سے زائد قیمت والے فلیگ شپ موبائل فونز درآمدی فونز کا صرف 16 فیصد حصہ ہیں، لیکن یہی فونز مجموعی ٹیکس وصولی کا 58 فیصد فراہم کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے مہنگے موبائل فونز پر ٹیکس میں مزید بڑی کمی سے حکومتی ریونیو متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔