بدھ، 24-جون،2026
بدھ 1448/01/09هـ (24-06-2026م)

ٹرمپ کے ایران کو جھکانے کے مسلسل دعوے اور ایران کی مسلسل تردید، سچ کیا ہے؟

24 جون, 2026 12:07

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات میں ایران کے جھکنے کے مسلسل دعوؤں کو تہران نے یکسر مسترد کرتے ہوئے ان بیانات کو حقیقت کے بلکل برعکس قرار دیا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ ہفتے سامنے آنے والے مفاہمت کے معاہدے کے بعد سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ مسلسل یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ انہوں نے تہران سے بڑے بڑے مطالبات منوا لیے ہیں۔

لیکن سفارتی اور تجزیاتی حلقوں میں اس وقت ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ کے دعوؤں کا کوئی بھی ثبوت اصل تحریری معاہدے میں موجود ہی نہیں ہے، اور ایران ان تمام دعوؤں کی مسلسل تردید کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بڑا دعویٰ کیا کہ ایران ہمیشہ کے لیے اپنے جوہری پروگرام کی اعلیٰ ترین سطح کی تفتیش پر راضی ہو گیا ہے، جبکہ ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران نے کوئی نیا وعدہ نہیں کیا بلکہ عالمی ایجنسی کے ساتھ صرف پرانے طریقہ کار کے مطابق ہی کام جاری رہے گا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کا ماضی کا ٹریک ریکارڈ دیکھتے ہوئے ان کے بیانات پر بلکل یقین نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ پہلے بھی کئی بار ایران کے حوالے سے ایسے مبالغہ آمیز اور غلط دعوے کر چکے ہیں، جیسے کہ انہوں نے جون 2025 کے حملوں کے بعد کہا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام بلکل تباہ ہو گیا ہے، مگر 8 مہینے بعد وہ خود اسی جوہری خطرے کا نام لے کر جنگ شروع کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : ڈونلڈ ٹرمپ کا سینیٹ کے جنگی اختیارات کے بل پر شدید برہمی کا اظہار

دوسرا بڑا تضاد ایرانی اثاثوں اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر نظر آتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ایران کے جو منجمد اربوں ڈالر بحال کیے جائیں گے، ان سے ایران صرف امریکہ کے کسانوں سے گندم، مکئی اور سویا بین خریدنے کا پابند ہوگا تاکہ یہ پیسہ فوج پر خرچ نہ ہو۔

تاہم جب امریکی سفیر مائیکل والٹز سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ طریقہ کار ابھی صرف طے کیا جا رہا ہے۔

دوسری طرف اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر علی بحرینی نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ اپنے اثاثوں کا استعمال کیسے کرنا ہے، یہ فیصلہ صرف اور صرف ایران کرے گا اور کسی دوسرے ملک کو اس میں مداخلت کی بلکل اجازت نہیں دی جائے گی۔

اسی طرح آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر مفت کھولنے کے ٹرمپ کے دعوے کے برعکس، ایران وہاں سروسز فیس وصول کرنے کا پلان شروع کر چکا ہے۔

یہ تمام صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو بچانے اور ڈومیسٹک دباؤ کو کم کرنے کے لیے عوام کے سامنے جھوٹے دعوے کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں معاہدے کا پلہ اب بھی ایران کے حق میں جھکا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔