ہفتہ، 27-جون،2026
ہفتہ 1448/01/12هـ (27-06-2026م)

موبائل فون خریدنے سے پہلے پی ٹی اے کا اسٹیٹس کیسے چیک کریں؟ جانیے

27 جون, 2026 09:58

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون خریدنے والے تمام صارفین کے لیے ایک اہم ہدایت جاری کی ہے۔

 پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ شہری صرف وہی موبائل فون خریدیں جو حکومت سے منظور شدہ اور رجسٹرڈ ہوں۔ اگر موبائل فون پی ٹی اے سے تصدیق شدہ نہیں ہوگا تو اس کی سروس کسی بھی وقت بند ہو سکتی ہے۔ اس پریشانی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ خریداری کے وقت ہی فون کا اسٹیٹس چیک کر لیا جائے۔

پی ٹی اے نے غیر قانونی، چوری شدہ اور نقلی موبائل فونز کا خاتمہ کرنے کے لیے ایک خاص نظام بنایا ہوا ہے۔ اس نظام کو "ڈربس” (DIRBS) کہا جاتا ہے۔ اس سسٹم کے تحت باہر کے ملکوں سے اسمگل ہو کر آنے والے یا بغیر ٹیکس کے لائے گئے موبائل فونز کو بلاک کر دیا جاتا ہے۔ اگر کسی فون کا آئی ایم ای آئی (IMEI) نمبر پی ٹی اے کے ریکارڈ میں موجود نہ ہو تو وہ فون پاکستان کے کسی بھی نیٹ ورک پر کام نہیں کر سکتا۔

موبائل خریدتے وقت اس بات کی تصدیق کرنا بہت آسان ہے۔ سب سے پہلے آپ کو اس موبائل کا آئی ایم ای آئی (IMEI) نمبر معلوم کرنا ہوگا۔ اس کے لیے آپ موبائل کے کی پیڈ سے بس یہ کوڈ ڈائل کریں: اسٹار ہیش صفر چھ ہیش (*#06#)۔ یہ کوڈ ملاتے ہی اسکرین پر 15 ہندسوں کا ایک نمبر آ جائے گا۔ اب آپ نے یہ دیکھنا ہے کہ جو نمبر اسکرین پر آیا ہے، کیا وہی نمبر موبائل کے ڈبے (باکس) پر بھی لکھا ہے؟ اگر دونوں نمبر الگ ہوں تو وہ فون ہرگز نہ خریدیں۔

آئی ایم ای آئی نمبر حاصل کرنے کے بعد آپ ایس ایم ایس کے ذریعے بھی فون کا اسٹیٹس چیک کر سکتے ہیں۔ اپنے موبائل کے میسج آپشن میں جائیں اور وہ 15 ہندسوں کا آئی ایم ای آئی نمبر لکھ کر "8484” پر بھیج دیں۔ کچھ ہی دیر میں آپ کو پی ٹی اے کی طرف سے ایک جوابی میسج ملے گا جو بتائے گا کہ یہ فون منظور شدہ ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ آپ پلے اسٹور سے پی ٹی اے کی آفیشل ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے بھی یہ تفصیلات دیکھ سکتے ہیں۔

پی ٹی اے نے موبائل فونز کے سافٹ ویئر یا آئی ایم ای آئی نمبر میں تبدیلی کرنے والوں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی موبائل فون میں غیر قانونی طور پر تبدیلی کرنا یا اس کا آئی ایم ای آئی بدلنا ایک سنگین جرم ہے۔ الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کے تحت ایسا کرنے والے کو تین سال تک کی جیل، 10 لاکھ روپے تک کا جرمانہ، یا یہ دونوں سزائیں ایک ساتھ ہو سکتی ہیں۔

حکام نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ باہر سے کوئی فون لاتے ہیں تو ایف بی آر (FBR) کا ٹیکس ادا کر کے اسے باقاعدہ رجسٹر کروائیں۔ چوری کے یا اسمگل شدہ سستے فونز خریدنے سے گریز کریں کیونکہ ایسے فونز کچھ ہی دنوں میں بلاک ہو جاتے ہیں اور شہریوں کے پیسے ڈوب جاتے ہیں۔ صرف تصدیق شدہ فون خریدنا ہی بلاتعطل سروس کی ضمانت ہے۔

Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔