پی ٹی اے نے واٹس ایپ صارفین کیلئے اہم ایڈوائزری جاری کردی

WhatsApp users warned; PTA's important announcement
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے واٹس ایپ استعمال کرنے والے تمام صارفین کو اہم ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹ کو فوری طور پر ایک فعال اور رجسٹرڈ موبائل سم سے منسلک کریں، غیر فعال، بلاک، ڈی ایکٹیویٹ یا غیر رجسٹرڈ سم سے وابستہ واٹس ایپ اکاؤنٹس مستقبل میں ناقابلِ رسائی ہو سکتے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق واٹس ایپ صرف پیغامات بھیجنے اور وصول کرنے کی ایپ نہیں بلکہ یہ صارف کی ڈیجیٹل شناخت کا بھی اہم حصہ بن چکی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ واٹس ایپ اکاؤنٹ ہمیشہ ایسی سم کے ساتھ منسلک ہو جو فعال ہو اور صارف کے نام پر درست طریقے سے رجسٹرڈ ہو۔
اتھارٹی نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے واٹس ایپ نمبر کی جانچ کریں۔ اگر واٹس ایپ کسی ایسی سم پر چل رہا ہے جو بند ہو چکی ہے، بلاک ہو گئی ہے یا اب استعمال میں نہیں ہے، تو اکاؤنٹ کو جلد از جلد نئی فعال اور تصدیق شدہ سم پر منتقل کر لیا جائے۔ اس سے اکاؤنٹ، چیٹس، رابطوں اور دیگر اہم معلومات کو محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی۔
پی ٹی اے نے کہا ہے کہ اگر کسی صارف کو سم کی تصدیق یا رجسٹریشن کے حوالے سے کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ اپنے موبائل نیٹ ورک کے قریبی فرنچائز یا کسٹمر سروس سینٹر سے رابطہ کرے۔ وہاں بائیومیٹرک تصدیق اور سم کی توثیق کا عمل مکمل کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد واٹس ایپ اکاؤنٹ کو محفوظ طریقے سے استعمال کیا جا سکے گا۔
اتھارٹی نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ صارفین اکاؤنٹ کے اچانک لاگ آؤٹ ہونے کا انتظار نہ کریں۔ اگر سم غیر فعال ہو جائے تو بعد میں واٹس ایپ تک دوبارہ رسائی حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ بروقت اقدامات کرنے سے صارفین اپنی ڈیجیٹل شناخت، ذاتی معلومات اور اہم پیغامات کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ موبائل نمبر اب صرف کالز اور پیغامات تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ مختلف آن لائن سروسز، بینکنگ ایپس، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور دیگر ڈیجیٹل سہولیات سے بھی منسلک ہوتا ہے۔ اس لیے ہر صارف کو اپنی سم کی حیثیت اور رجسٹریشن کو ہر وقت درست اور فعال رکھنا چاہیے۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











