ایرانی میزائل حملوں سے اسرائیلی حیفا ریفائنری کو ہونے والے شدید نقصان کا سرکاری اعتراف

اسرائیلی وزارت داخلہ کی ایک سرکاری دستاویز سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں حیفا کے بازان ریفائنری کمپلیکس کو بتائے گئے نقصان سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔
اسرائیلی حکومت کی وزارت داخلہ کی جانب سے شائع کی جانے والی ایک سرکاری دستاویز نے یہ پول کھول دیا ہے کہ ایرانی میزائل حملوں کے بعد ریفائنری کو پہنچنے والا نقصان اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے، جتنا پہلے بتایا گیا تھا۔
یہ دستاویز حیفا بے میں واقع بازان ریفائنری کمپلیکس کی دوبارہ تعمیر کے کاموں کی منظوری کے طریقہ کار کے دوران سامنے آئی ہے۔
اس رپورٹ میں گیس ٹربائنز، اسٹیم بوائلرز، الیکٹریکل رومز اور دیگر معاون سسٹمز کو پہنچنے والے شدید نقصان کی تفصیلات موجود ہیں، جنہیں پہلے عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔
دستاویز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مارچ میں ہونے والے حملے کے دوران تیل کے ذخیرے کا ایک بڑا ٹینک اس حد تک تباہ ہو چکا ہے کہ اب وہ مرمت کے قابل نہیں رہا اور اس کی جگہ 12700 کیوبک میٹر کی گنجائش والا ایک نیا ٹینک لگانا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کا رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی اسرائیلی دھمکی پر اقوامِ متحدہ کو خط
اس سے قبل جون میں ہونے والے ایک اور حملے نے اس کمپلیکس کے پاور پلانٹ کو شدید نقصان پہنچایا تھا، جس سے ریفائنری کا کام رک گیا تھا اور 3 ملازمین بھی ہلاک ہو گئے تھے۔
اس وقت بازان انتظامیہ نے نقصان کا تخمینہ 150 سے 200 ملین ڈالر لگایا تھا، جبکہ اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ایندھن کی سپلائی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
تاہم اب سامنے آنے والی سرکاری دستاویز کے مطابق یہ نقصان صرف مادی نہیں ہے بلکہ اس نے ریفائنری کی کام کرنے کی صلاحیت کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔
ٹینک کی تباہی نے مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق پیٹرول تیار کرنے اور اسے صارفین تک پہنچانے کی صلاحیت کو براہ راست متاثر کیا ہے، جو اس وقت کے اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن کے اس بیان کی کھلی تردید ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پیداواری تنصیبات محفوظ ہیں۔
دستاویز سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دوبارہ تعمیر کے لیے منظور کیا گیا رقبہ پچھلے حملے کی نسبت دگنا ہے، جس کا مطلب ہے کہ تباہی کا پیمانہ بہت وسیع تھا۔
رپورٹ کے مطابق اس کمپلیکس کی مکمل بحالی 2028 سے پہلے ممکن نہیں ہے، جو اسرائیلی کابینہ کے 2031 میں اس صنعتی علاقے کو یہاں سے منتقل کرنے کے منصوبے سے صرف 3 سال پہلے کا وقت ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












