شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسد خاکی آخری دیدار کے بعد تہران منتقل

ایران کے شہید سپریم لیڈر کا جسد خاکی آخری دیدار کے بعد تہران منتقل کر دیا گیا، جہاں ہفتے کو ان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی، جس میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔
امت کے عظیم رہنما آیت اللہ سید علی خامنہ ای شہید کے جنازے کو آخری دیدار کے لیے ان کے خانوادے کے سامنے لایا گیا۔
گھر والوں، سیکیورٹی کے دوسرے دستے اور پاسداران انقلاب کے جوانوں سمیت ان کے خاندان کے لیے دیدار کی یہ تقریب 3 جون کی رات کو اسی مقام پر منعقد کی گئی، جہاں آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو شہید کیا گیا تھا۔
اس موقع پر ایرانی پاسداران کے جنرل واحدی اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ جائے شہادت کے قریب واقع امام خمینی حسینیہ میں شہدا کے گھر والوں، دوسرے اور تیسرے مقدس دفاع کے گارڈز اور ان کے خاندانوں نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو الوداع کہا۔
اس موقع پر شہدا کے ساتھیوں نے کربلا کے عظیم شہید امام حسین اور اہل بیت کے غم میں نوحہ خوانی بھی کی۔
یہ بھی پڑھیں : شہید علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد امریکہ ایران مذاکرات کے اگلے دور کا شیڈول طے ہوگا، پاکستان
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ ہفتے کے روز تہران میں ادا کی جائے گی، جس کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
ان کے جسد خاکی کو تہران کے جنوبی علاقے امام خمینی حسینیہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ نماز جنازہ میں مختلف ممالک کے سربراہان اور 100 سے زائد ممالک کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔
نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد جسدِ خاکی کو تہران سے قم، پھر نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، جس کے بعد اسے دوبارہ ایران لا کر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق اس جنازے میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو تہران پر بمباری کر کے شہید کر دیا تھا۔ اس حملے میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی بہو اور موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ بھی شہید ہوئی تھیں۔ حکومت کی جانب سے 8 جولائی کو ملک بھر میں سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












