سندھ اور بلوچستان کی بنجر زمینوں پر جھینگا فارمنگ کا آغاز، اربوں روپوں کا زرمبادلہ متوقع

وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات نے پاکستان کی آبی زراعت اور ساحلی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے جھینگا فارمنگ اور ماہی گیری کی ترقی کا ایک بڑا قومی منصوبہ شروع کر دیا۔
وزیر اعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت پاکستان میں ماہی گیری اور جھینگا فارمنگ کے شعبے کی ترقی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پاکستان میں ماہی گیری کا شعبہ لاکھوں خاندانوں کے روزگار اور ملکی برآمدات کا ایک اہم ذریعہ ہے، جس میں ترقی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔
اس وژن کے تحت وزارتِ بحری امور محدود تجارتی ماہی گیری کے فروغ کے لیے ایک جامع پلان پر کام کر رہی ہے، جس میں این ایل سی سمیت دیگر قومی ادارے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : گوادر پورٹ پر تاریخ میں پہلی بار میرین بنکرنگ آپریشن کا کامیاب آغاز
منصوبے کے تحت سندھ، بلوچستان اور دیگر صوبوں کی ایسی زمینیں جو نمکین ہونے کی وجہ سے بنجر ہو چکی تھیں، وہاں شرمپ فارمنگ کلسٹرز قائم کیے جا رہے ہیں اور مجموعی طور پر ساڑھے تین ہزار ایکڑ نمکین زمین کو جدید شرمپ فارمز میں تبدیل کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ بلوچستان کے ساحلی علاقے میں جھینگوں کی افزائش کے لیے ایک ملٹی پرپز ہیچری بنائی جا رہی ہے جبکہ جنوبی پنجاب میں ماہی گیری کی جدید تحقیق کے لیے ایک ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر قائم کیا جائے گا۔
منصوبے کے تحت ایک ہزار 570 افراد کو باقاعدہ فنی تربیت دی جائے گی اور نجی شعبے کے تعاون سے شرمپ ہیچریز، فیڈ ملز اور پروسیسنگ مراکز قائم کیے جائیں گے۔
حکام کے مطابق اس منصوبے سے سالانہ 10 ہزار 500 ٹن اعلیٰ معیار کی آبی حیات برآمد کی جائے گی، جس سے ملک کو 7.8 ارب روپے کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا اور ساتھ ہی ساڑھے تین ہزار سے زائد براہِ راست روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












