جمعرات، 13-اگست،2026
جمعرات 1448/02/30هـ (13-08-2026م)

اے آئی براؤزر ایجنٹس سے واٹس ایپ صارفین کو خطرہ، ماہرین نے خبردار کردیا

07 اگست, 2026 11:46

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے واٹس ایپ صارفین کو خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے براؤزر ایجنٹس کو دھوکا دے کر ان سے ایسے کام کروائے جا سکتے ہیں جن کی صارف نے اجازت نہیں دی ہوتی۔

 ماہرین کے مطابق حملہ آور خفیہ ہدایات کے ذریعے اے آئی ایجنٹ کو صارف کے لاگ اِن اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے اور رابطوں کو جعلی پیغامات بھیجنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔

یہ انکشاف سائبر سکیورٹی کمپنی زینیٹی کے محققین نے لاس ویگاس میں ہونے والی بلیک ہیٹ کانفرنس کے دوران کیا۔ تحقیق میں مختلف اے آئی براؤزرز اور ایکسٹینشنز کی سکیورٹی کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے خاص طور پر اوپن اے آئی کے اے آئی براؤزر اٹلس پر تجربات کیے، جو صارف کی ہدایات پر ویب براؤزنگ اور مختلف آن لائن کام خودکار طور پر انجام دے سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اس خطرے کا تعلق براہِ راست واٹس ایپ کی سکیورٹی سے نہیں ہے۔ ماہرین نے واضح کیا کہ واٹس ایپ کی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کو توڑنے یا میٹا کے سسٹمز کو ہیک کرنے کا معاملہ سامنے نہیں آیا۔ اصل مسئلہ اے آئی ایجنٹ کے کام کرنے کے طریقہ کار میں ہے۔ یہ ایجنٹس ویب صفحات پر موجود ہدایات کو سمجھ کر ان پر عمل کرسکتے ہیں۔ اگر کسی ویب پیج میں نقصان دہ یا خفیہ ہدایات شامل کردی جائیں تو اے آئی ایجنٹ انہیں بھی اصل کام کا حصہ سمجھ سکتا ہے۔

محققین نے ایک تجربے میں اے آئی ایجنٹ کو نیوز لیٹر کے لیے رجسٹریشن کرنے کی ہدایت دی۔ ویب پیج پر ایسی پوشیدہ ہدایات موجود تھیں جو انسان کو نظر نہیں آتیں، تاہم اے آئی ایجنٹ انہیں پڑھ کر ان پر عمل کرنے لگا۔ اس کے نتیجے میں ایجنٹ نے پہلے سے لاگ اِن واٹس ایپ ویب کھولا اور صارف کے رابطوں کو ایک ہی پیغام بھیج دیا۔ اس پیغام میں انہیں بھی نیوز لیٹر کے لیے رجسٹر ہونے کی دعوت دی گئی۔

ماہرین کے مطابق حملے کو کامیاب بنانے کے لیے ایک اور طریقہ بھی استعمال کیا گیا۔ خفیہ ہدایات انگریزی کے بجائے دوسری زبان میں لکھی گئیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بعض حفاظتی فلٹرز خطرناک ہدایات کو زیادہ تر انگریزی زبان کی بنیاد پر شناخت کر رہے تھے۔ یوں مختلف زبان کا استعمال کرتے ہوئے اے آئی ایجنٹ کے حفاظتی نظام کو چکمہ دینے کی کوشش کی گئی۔

تحقیق کے دوران ایک اور اہم خطرہ بھی سامنے آیا۔ محققین نے اے آئی ایجنٹ کے ذریعے ایمازون اکاؤنٹ میں ایک ٹیبلٹ کارٹ میں شامل کروایا اور شپنگ ایڈریس بھی درج کیا۔ اوپن اے آئی کے حفاظتی نظام نے خریداری مکمل ہونے سے روکنے کی کوشش کی، تاہم جب اے آئی ایجنٹ نے ایمازون کے اے آئی اسسٹنٹ ریوفس سے خریداری مکمل کرنے کو کہا تو یہ عمل اضافی تصدیق کے بغیر آگے بڑھ گیا۔

زینیٹی کے مطابق تحقیق میں مختلف کمپنیوں کے اے آئی براؤزرز اور ایکسٹینشنز میں 20 سے زائد سکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ ان میں اوپن اے آئی، گوگل، مائیکروسافٹ، انتھروپک اور پرپلیکسٹی سے متعلق مصنوعات شامل تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی خامیوں کے ذریعے مقامی فائلوں، پاس ورڈ مینیجرز اور مختلف آن لائن اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ بعض حالات میں صارف کی منظوری کے بغیر آن لائن خریداری بھی ممکن ہو سکتی ہے۔

زینیٹی نے بتایا کہ تحقیق کے نتائج جنوری 2026 میں اوپن اے آئی کے ساتھ شیئر کیے گئے تھے۔ کمپنی کے مطابق اس کے بعد اٹلس کے حفاظتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے کئی اپ ڈیٹس جاری کی گئیں۔ اوپن اے آئی نے اے آئی براؤزنگ کے دوران نقصان دہ ہدایات کی شناخت اور انہیں روکنے کے لیے سیکیورٹی اقدامات میں بھی بہتری کی۔

ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اے آئی براؤزر ایجنٹس کو حساس اکاؤنٹس استعمال کرنے کی اجازت دیتے وقت خاص احتیاط کریں۔ خاص طور پر واٹس ایپ، ای میل، بینکنگ، خریداری اور پاس ورڈ مینیجرز جیسے اکاؤنٹس میں خودکار رسائی کے فیچرز کو بغیر ضرورت فعال نہ کیا جائے۔ کسی بھی ویب پیج یا لنک پر اے آئی ایجنٹ کو کام دینے سے پہلے اس کے ممکنہ اثرات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔

Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔