بدھ، 19-اگست،2026
بدھ 1448/03/06هـ (19-08-2026م)

علی عبداللہی ایران کی مسلح افواج کے سربراہ مقرر، مزید 5 ٹاپ ملٹری لیڈرز بھی تعینات

11 اگست, 2026 09:31

تہران: اسلامی انقلاب کے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے ایرانی مسلح افواج اور پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) کے 6 اہم فوجی عہدوں پر نئی تقرریاں کر دی ہیں، جن میں مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے سربراہ اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف کے عہدے بھی شامل ہیں۔

رہبر انقلاب کی جانب سے پیر کے روز جاری کیے گئے 6 الگ الگ احکامات کے تحت میجر جنرل علی عبداللہی کو مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کا سربراہ مقرر کیا گیا، جبکہ بریگیڈیئر جنرل کیومرث حیدری ان کے نائب ہوں گے۔

میجر جنرل احمد واحدی کو میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر پاسدارانِ انقلاب اسلامی کا نیا کمانڈر انچیف مقرر کیا گیا ہے۔ میجر جنرل مصطفیٰ ایزدی کو ان کا نائب مقرر کیا گیا۔

اس کے علاوہ ریئر ایڈمرل علی اوزمایی کو پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا کمانڈر مقرر کیا گیا، جبکہ حجۃ الاسلام حسین طائب کو بسیج آرگنائزیشن کی سربراہی سونپ دی گئی۔

علی عبداللہی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے سربراہ مقرر

رہبر انقلاب نے میجر جنرل عبدالرحیم موسوی کی ہلاکت کے بعد میجر جنرل علی عبداللہی کو مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کا سربراہ مقرر کیا۔

ایرانی حکام کے مطابق عبدالرحیم موسوی امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ تقرری کے حکم میں علی عبداللہی کی سابقہ خدمات، تجربے اور صلاحیتوں کو مدنظر رکھنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

نئے سربراہ کو مسلح افواج اور بسیج فورسز کی دفاعی و سکیورٹی صلاحیتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ روایتی اور ابھرتے ہوئے خطرات، جن میں فوجی، اطلاعاتی اور ہائبرڈ نوعیت کے خطرات شامل ہیں، کے خلاف بروقت اور مؤثر ردعمل کی تیاری پر بھی زور دیا گیا۔

حکم میں مسلح افواج کے جنرل اسٹاف اور خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے درمیان رابطے اور انضمام کے عمل کو مزید مکمل کرنے کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی ہے۔

احمد واحدی پاسدارانِ انقلاب کے نئے کمانڈر

بریگیڈیئر جنرل احمد واحدی کو میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر پاسدارانِ انقلاب اسلامی کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔

رہبر انقلاب کے حکم کے مطابق یہ تقرری سابق کمانڈر میجر جنرل محمد پاکپور کی ہلاکت کے بعد عمل میں آئی۔ احمد واحدی کے وسیع عسکری تجربے اور سابقہ خدمات کو بھی تقرری کی وجوہات میں شامل کیا گیا ہے۔

نئے کمانڈر کو پاسدارانِ انقلاب کی عسکری صلاحیتوں میں اضافے، دفاعی طاقت کو مضبوط بنانے اور مؤثر دفاعی تیاری برقرار رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

احمد واحدی نے الیکٹرانک انجینئرنگ میں گریجویشن کے علاوہ اسٹریٹجک اسٹڈیز میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ وہ 1980 کی دہائی میں پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس شعبے میں بھی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں اور ایران کے وزیر داخلہ بھی رہ چکے ہیں۔

کیومرث حیدری مسلح افواج کے نائب سربراہ مقرر

بریگیڈیئر جنرل کیومرث حیدری کو مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کا نائب سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

تقرری کے حکم میں ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت، تجربے اور خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں مسلح افواج کی دفاعی و سکیورٹی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ فوجی اہلکاروں کی فلاح و بہبود اور ان کے معاشی و معاشرتی مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی ہے۔

مصطفیٰ ایزدی پاسدارانِ انقلاب کے نائب کمانڈر مقرر

میجر جنرل مصطفیٰ ایزدی کو پاسدارانِ انقلاب اسلامی کا نائب کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔

رہبر انقلاب نے مصطفیٰ ایزدی کی خدمات، صلاحیت اور وسیع تجربے کو سراہتے ہوئے تنظیمی تیاری اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے میں فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت کی۔

علی اوزمایی پاسدارانِ انقلاب بحریہ کے کمانڈر

ریئر ایڈمرل علی اوزمایی کو پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی بحریہ کا نیا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔

یہ تقرری ریئر ایڈمرل علیرضا تنگسیری کی ہلاکت کے بعد کی گئی۔ حکم میں بحریہ کی تربیت، پیشہ ورانہ مہارت، بحری سازوسامان اور آپریشنل صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

رہبر انقلاب نے انٹیلی جنس صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور جنگی تیاری میں اضافے کی ہدایت بھی کی۔ اس کے ساتھ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ، دیگر شعبوں، بسیج اور ایرانی فوج کی بحریہ کے درمیان مؤثر تعاون اور رابطے کو بھی اہم قرار دیا گیا۔

حسین طائب بسیج کے سربراہ مقرر

حجۃ الاسلام حسین طائب کو بسیج آرگنائزیشن کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ وہ جنرل غلام رضا سلیمانی کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے، جو ایرانی حکام کے مطابق امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

رہبر انقلاب نے موجودہ حالات اور نئے تقاضوں کے پیش نظر بسیج کے کردار اور صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

حسین طائب کو بسیج اور مزاحمت کے نظریے کو مزید فروغ دینے، عوامی انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مضبوط کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تربیت و مہارت میں اضافے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔

ایرانی قیادت کی جانب سے اعلیٰ عسکری عہدوں پر یہ مسلسل تقرریاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ نئی عسکری قیادت کو دفاعی تیاری، کمانڈ اسٹرکچر اور مختلف فوجی اداروں کے درمیان رابطہ مزید مؤثر بنانے کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔