جمعرات، 13-اگست،2026
جمعرات 1448/02/30هـ (13-08-2026م)

سائنسدانوں کا بلیک ہول اسٹار کی حیران کن دریافت کا دعویٰ

13 اگست, 2026 13:30

سائنسدانوں نے کائنات میں ایک ایسے پراسرار کائناتی مظہر کی نشاندہی کا دعویٰ کیا ہے جو بیک وقت بلیک ہول اور انتہائی روشن ستارے جیسا دکھائی دیتا ہے۔

بین الاقوامی محققین کی ٹیم نے یہ دریافت ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے حاصل ہونے والی تصاویر کی مدد سے کی، جن میں ایک غیر معمولی اور انتہائی سرخ روشنی نظر آئی تھی۔ یہ مظہر برجِ قیطس میں زمین سے اربوں نوری برس کے فاصلے پر واقع ہے۔

محققین کے مطابق یہ کائناتی جسم بگ بینگ کے تقریباً 66 کروڑ سال بعد وجود میں آیا۔ حجم کے اعتبار سے یہ ہمارے نظامِ شمسی کے برابر بتایا جاتا ہے، تاہم اس سے خارج ہونے والی توانائی کسی عام ستارے کے مقابلے میں تقریباً 100 ارب گنا زیادہ ہے۔

تحقیقی ٹیم میں شامل میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنسدان روہن نائیڈو کے مطابق یہ ایک بالکل نئی قسم کا کائناتی مظہر ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس میں بلیک ہول سے وابستہ غیر معمولی توانائی بھی موجود ہے اور ستارے جیسی خصوصیات بھی دکھائی دیتی ہیں۔

محققین نے اس پراسرار سرخ مظہر کو مام بی ایچ 1 (MAM-BH1) کا نام دیا ہے۔ تحقیق کے مطابق اس کی روشنی مخصوص ویو لینتھ پر غائب ہونے کے باعث غیر معمولی خصوصیات رکھتی ہے، جس نے سائنسدانوں کی توجہ حاصل کی۔

کمپیوٹر سمولیشنز کے ذریعے محققین نے یہ امکان پیش کیا کہ یہ کوئی انتہائی بڑا ستارہ نہیں بلکہ ایک ایسا بلیک ہول ہے جو ستارے کی طرح روشن دکھائی دیتا ہے۔

اگر یہ نظریہ مزید تحقیق سے درست ثابت ہوتا ہے تو اس سے یہ امکان پیدا ہوگا کہ جیمز ویب ٹیلی اسکوپ سے دریافت ہونے والے دیگر پراسرار سرخ نقاط میں سے کچھ بھی ایسے ہی بلیک ہول اسٹارز ہو سکتے ہیں۔

روہن نائیڈو کے مطابق ایسے کائناتی مظاہر ابتدائی کائنات میں کہکشاؤں کی تشکیل اور ارتقا میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔