اسرائیلی وزیر کا غزہ میں روزانہ 30 سے 40 فلسطینیوں کو قتل کرنے کا مطالبہ

اسرائیلی وزیر اتامار بن گویر نے غزہ میں روزانہ 30 سے 40 فلسطینی شہریوں کے قتل عام کا مطالبہ کر کے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
اسرائیل کے شدت پسند وزیر اتامار بن گویر نے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو کے دوران انسانیت سوز بیان دیتے ہوئے اپنی فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ غزہ میں روزانہ 30 سے 40 فلسطینیوں کو قتل کریں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوجی کارروائیوں کا دائرہ کار صرف ان افراد تک محدود نہیں ہونا چاہیے، جو کسی لمحے خطرہ بنتے ہیں بلکہ ہر فلسطینی کو نشانہ بنایا جائے۔
اتامار بن گویر جو نیتن یاہو حکومت میں پولیس اور جیلوں کا شعبہ سنبھالتے ہیں، نے فلسطینیوں کی توہین کرتے ہوئے انہیں انسان ماننے سے بھی انکار کر دیا اور کہا کہ وہ جینے کے قابل نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ منصوبے میں اسرائیلی رکاوٹیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کا امریکہ سے دباؤ ڈالنے کا مطالبہ
انہوں نے موجودہ معطل شدہ جنگ بندی کے تحت کارروائیوں کو کم کرنے پر نیتن یاہو پر تنقید کی اور ٹارگٹ کلنگ کے سلسلے کو دوبارہ شروع کرنے کی حمایت کی۔
انٹرویو کے دوران انہوں نے ایک سابق اسرائیلی قیدی کو فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ فلسطینیوں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرنے کا موقع دینے کا وعدہ بھی کیا۔
بن گویر نے فلسطینیوں کو غزہ سے دائمی طور پر بے دخل کرنے اور پورے علاقے پر اسرائیلی قبضہ جمانے کا اپنا پرانا مطالبہ بھی دہرایا۔
عالمی قانون دانوں نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی جبری بے دخلی نسلی صفائی کے زمرے میں آتی ہے، جبکہ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق معطل شدہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں میں ایک ہزار 250 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












