ستمبر کا ٹیکس ہدف مقررہ وقت پر پورا کر لیں گے، ایف بی آر حکام کی آئی ایم ایف کو یقین دہانی

ایف بی آر حکام نے آئی ایم ایف ٹیم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ادارہ پہلی سہ ماہی کا 3 ہزار 53 ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کر لے گا۔
وفاقی وزارتِ خزانہ اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان جاری اقتصادی مذاکرات کے سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ حکام نے آئی ایم ایف مشن کو تفصیلی بریفنگ دی ہے۔
بریفنگ کے دوران پاکستانی حکام نے واضح کیا کہ ایف بی آر ملک بھر میں مجموعی ٹیکس وصولیوں کے مقررہ اہداف کو کامیابی کے ساتھ پورا کرے گا۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر ستمبر کے مہینے میں ایک ہزار 330 ارب روپے کا ہدف بھی باآسانی حاصل کر لے گا، اگرچہ ادارے کو اس سے قبل اگست 2026 کے دوران 28 ارب روپے کا شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم مجموعی مالیاتی کارکردگی تسلی بخش قرار دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پنشن اصلاحات کیلئے پاکستان کا اے ڈی بی سے 50 کروڑ ڈالر قرض کا منصوبہ
اعداد و شمار کے مطابق ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور گوشوارے جمع کرانے کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران ملک بھر میں 32 لاکھ ریٹرنز جمع کرائے گئے تھے، جبکہ رواں سال ریٹرنز کی تعداد میں 15.2 لاکھ کا ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
شہریوں اور ٹیکس دہندگان کی آسانی اور قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی قانونی آخری تاریخ 30 ستمبر 2026 مقرر کی گئی ہے اور ایف بی آر کی جانب سے ریٹرن فائلنگ کے موجودہ رجحان کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد اس تاریخ میں توسیع کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ شفافیت کو فروغ دینے کے لیے سرکاری افسران کو اپنے اثاثوں کے گوشوارے لازمی طور پر الیکٹرانک طریقے سے جمع کرانے کا پابند بنایا گیا ہے، جبکہ سول سرونٹس کے اثاثوں سے متعلق محدود نوعیت کی معلومات 31 دسمبر تک عوام الناس کے لیے عام کرنے کی سخت ڈیڈ لائن بھی مقرر کر دی گئی ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












