صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ

امریکی صدر کی جانب سے ایران کی امن تجویز مسترد کئے جانے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی جنگ بندی کی تجویز مسترد کیے جانے کے فوری بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سرمایہ کاروں اور مارکیٹ ماہرین کے درمیان یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ سفارتی کوششوں کی ناکامی کے بعد مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : تہران کا جواب ناقابل قبول ہے، صدر ٹرمپ نے ایران کی امن تجاویز کو مسترد کردیا
اتوار کے روز عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت میں دو اعشاریہ چھ نو فیصد کا اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی قیمت ایک سو چار ڈالر اور ایک سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی۔ یاد رہے کہ جمعہ کے روز بھی قیمتوں میں ایک اعشاریہ دو تین فیصد کا اضافہ دیکھا گیا تھا۔
اسی طرح امریکی مارکیٹ میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں بھی تین ڈالر نو سینٹ یعنی تین اعشاریہ دو چار فیصد کا بڑا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ اٹھانوے ڈالر اکیاون سینٹ فی بیرل کی سطح پر بند ہوا۔
معاشی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافے اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خطرات نے عالمی منڈی کو عدم استحکام کا شکار کر دیا ہے۔
اگر فریقین کے درمیان تلخی اسی طرح برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے، جو عالمی سطح پر مہنگائی کی نئی لہر کا سبب بن سکتا ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












