پیٹرول کی قیمت میں کمی سے کیا مہنگائی بھی کم ہوگی؟ معاشی ماہرین نے اہم سوال کا جواب دیدیا

Will Lower Fuel Prices Reduce Inflation?
پاکستان کی معیشت اس وقت کئی اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر مہنگائی، شرح سود، کاروباری سرگرمیوں اور عوام کی قوت خرید پر پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیاں ملکی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہیں۔
ایک نجی ٹی وی کی بجٹ ٹرانسمیشن میں گفتگو کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ پاکستان کی معاشی صورتحال صرف حکومتی پالیسیوں سے وابستہ نہیں بلکہ عالمی حالات بھی اس پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی تجارتی ماحول معیشت کے لیے اہم عوامل ہیں۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایس ڈی پی آئی عابد سلہری نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس صورتحال نے مہنگائی کے خدشات کو بڑھا دیا۔ تاہم اگر خطے میں حالات بہتر ہوتے ہیں اور کشیدگی کم ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل سستا ہو سکتا ہے، جس کا فائدہ پاکستان سمیت دیگر درآمدی ممالک کو بھی ملے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہوئیں تو مہنگائی کی شرح دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ ایسی صورت میں اسٹیٹ بینک شرح سود میں اضافے پر غور کر سکتا ہے۔ شرح سود بڑھنے سے قرض لینا مہنگا ہو جاتا ہے اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
معاشی ماہرین نے کہا کہ حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں اور معاشی استحکام کے لیے کیے جانے والے اقدامات قابل تعریف ہیں، لیکن آنے والے مہینوں میں دو بڑے خطرات موجود ہیں۔ پہلا خطرہ مون سون بارشوں کا ہے جبکہ دوسرا عالمی شپنگ اور انشورنس اخراجات میں اضافہ ہے۔
عابد سلہری کے مطابق 2025 کے سیلاب نے کپاس کی فصل کو شدید نقصان پہنچایا تھا جس کے اثرات برآمدات پر بھی پڑے۔ رواں سال بھی معمول سے زیادہ بارشوں کی پیشگوئی کی جا رہی ہے۔ اگر شدید بارشیں ہوئیں تو خریف کی فصلوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جس سے زرعی پیداوار اور معیشت دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران اور امریکا کے تعلقات میں بہتری بھی آ جائے تو شپنگ اور انشورنس کے بڑھتے ہوئے اخراجات فوری طور پر کم نہیں ہوں گے۔ عالمی تجارتی اداروں کو حالات معمول پر لانے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے ایف بی آر کے نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس نظام کے تحت نیشنل فیس لیس سینٹر قائم کیا جائے گا جہاں ٹیکس دہندگان اور ٹیکس افسران کے درمیان براہ راست رابطہ ختم کر دیا جائے گا۔ تمام کارروائی آن لائن پورٹل کے ذریعے مکمل کی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق اس نئے نظام سے شفافیت بڑھے گی اور ٹیکس دہندگان کو غیر ضروری دباؤ اور ہراسانی سے نجات مل سکتی ہے۔ تاہم اس کی کامیابی کا انحصار مؤثر عملدرآمد پر ہوگا۔
اقتصادی ماہرین نے زور دیا کہ ملک میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ لاکھوں افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ بڑی تعداد اب بھی ٹیکس نظام سے باہر ہے۔ زراعت، ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ جیسے شعبوں کو مؤثر انداز میں ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ضروری ہے تاکہ قومی آمدن میں اضافہ ہو اور معیشت مزید مستحکم ہو سکے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











