جمعہ، 24-اپریل،2026
جمعہ 1447/11/07هـ (24-04-2026م)

واشنگٹن کی جنگیں اور بیجنگ کی حکمت عملی، عالمی مالیاتی نظام کی تبدیلی کا آغاز

24 اپریل, 2026 09:30

امریکہ کی جنگوں میں شمولیت اور پابندیوں کی پالیسی کے برعکس چین نے خاموشی سے دنیا کا متبادل صنعتی اور مالیاتی نظام تیار کر لیا ہے، جس نے واشنگٹن کے عالمی غلبے کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

دنیا اس وقت ایک ایسی بڑی تبدیلی کی زد میں ہے، جہاں طاقت کا توازن مغرب سے مشرق کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ پچھلی دو دہائیوں کے دوران جہاں واشنگٹن نے اپنی توانائیاں جنگوں، پابندیوں اور حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے میں صرف کیں، وہیں بیجنگ نے ایک ایسا نظام وضع کر لیا ہے، جس کا متبادل ڈھونڈنا اب دنیا کے لیے ناممکن ہو چکا ہے۔

چین نے حالیہ عالمی بحرانوں کو اپنی صنعتی برتری ثابت کرنے کے لیے بہترین طریقے سے استعمال کیا ہے۔ عالمی وبا کے دوران چین طبی ساز و سامان کا سب سے بڑا فراہم کنندہ بن کر ابھرا، جبکہ مصنوعی ذہانت کے دور میں ڈیٹا سینٹرز کے لیے ضروری دھاتوں اور نظاموں پر بیجنگ کا مکمل کنٹرول قائم ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خلائی ٹیکنالوجی میں چین کی بڑی کامیابی، امریکی بحریہ کی نگرانی کے لیے نیا ریڈار نظام تیار

چین کی موجودہ حکمت عملی محض صنعت تک محدود نہیں بلکہ اس کے تانے بانے مالیاتی دنیا سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ سال 2026 کے آغاز میں بیجنگ نے اپنے بڑے بینکوں کو امریکی ٹریژری بانڈز میں سرمایہ کاری کم کرنے کی ہدایات جاری کر دیں، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ چین اپنی کرنسی رینمنبی کو عالمی ریزرو کرنسی کے طور پر متعارف کروانے کے لیے پر تول رہا ہے۔

بیجنگ ایک سہ فریقی مہم چلا رہا ہے، جس میں گرین انرجی اور جدید مینوفیکچرنگ پر قابض ہونا، ترقی پذیر ممالک کو بنیادی ڈھانچے کے قرضوں میں جکڑنا اور ڈالر کے مقابلے میں اپنا مالیاتی ڈھانچہ کھڑا کرنا شامل ہے۔ اگر امریکہ اپنی مخصوص مراعات کھو دیتا ہے تو چین کا متبادل نظام پہلے سے ہی کام کے لیے تیار ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔