بدھ، 9-ستمبر،2026
بدھ 1448/03/27هـ (09-09-2026م)

پاک افغان سرحد پر ہلاک دہشتگرد افغان شہری نکلا، پاکستان کے مؤقف کی تائید

09 ستمبر, 2026 12:42

پاک افغان سرحد پر مارے گئے دہشتگردوں میں افغان شہری کی شناخت کے بعد افغان شہریوں کے پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہونے کا ایک اور ناقابلِ تردید ثبوت سامنے آ گیا۔

افغان شہریوں کے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا ایک اور ناقابلِ تردید ثبوت سامنے آ گیا ہے۔ ایک ستمبر کو غلام خان پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز کی اہم کارروائی کے دوران 15 دہشتگرد مارے گئے تھے، جن میں سے ایک دہشتگرد کی شناخت سید احمد ہارون کے نام سے ہوئی ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ احمد ہارون کا تعلق افغانستان کے صوبہ پکتیا سے تھا۔

یہ بھی پڑھیں : افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے خلاف مسلح عوامی مزاحمت میں شدت

افغان دہشتگرد کی یہ واضح شناخت سرحد پار سے جاری دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کے مسلسل اور اصولی مؤقف کی ایک بار پھر تائید کرتی ہے۔ اس واقعے سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ پاکستان میں جاری دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین اور افغان شہری استعمال ہو رہے ہیں۔

اس صورتحال نے طالبان حکومت کی جانب سے اپنی سرحد کے اندر دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کرنے کے کھوکھلے دعووں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان میں مختلف دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرتے ہوئے 300 سے زائد افغان شہریوں کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ افغان شہری پاکستان میں دہشتگردانہ سرگرمیوں میں براہِ راست حصہ لے رہے ہیں۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔