پیر، 22-جون،2026
پیر 1448/01/07هـ (22-06-2026م)

ایف بی آر کی موبائل فون پر درآمدی ڈیوٹی میں کمی کی یقین دہانی

22 جون, 2026 11:34

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں موبائل فونز پر عائد درآمدی ٹیکسز سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اجلاس میں ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے ڈیوٹی میں کمی کی یقین دہانی کروائی ہے۔

اجلاس چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر کی صدارت میں ہوا۔ جس میں ملک کی آٹو پالیسی، الیکٹرک گاڑیوں اور موبائل فونز پر ٹیکس نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے مختلف ٹیرف اور ڈیوٹی شرحوں پر بریفنگ دی۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ درآمدی موبائل فونز پر عائد 20 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی پر غور کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر 200 ڈالر تک قیمت والے فونز پر ٹیکس کم کرنے کے امکانات موجود ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت موبائل فونز پر مختلف کیٹیگریز کے مطابق ٹیکس لیا جا رہا ہے۔ کم قیمت فونز پر بھی بھاری شرح ٹیکس لاگو ہے، جس پر نظر ثانی کی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 30 ڈالر تک قیمت والے فونز پر 25 فیصد ٹیکس ہے۔ 31 سے 100 ڈالر کے فونز پر 36 فیصد ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ اسی طرح 101 سے 200 ڈالر کے فونز پر 40 فیصد ٹیکس لاگو ہے۔

مزید بتایا گیا کہ 201 سے 350 ڈالر کے فونز پر 38 فیصد، 351 سے 500 ڈالر پر 40 فیصد جبکہ 500 ڈالر سے زیادہ قیمت والے فونز پر 41 فیصد تک ٹیکس عائد ہے۔

حکام کے مطابق اوسط مؤثر ٹیکس شرح تقریباً 39.6 فیصد بنتی ہے۔ قیمت بڑھنے کے ساتھ ٹیکس بھی بڑھ جاتا ہے۔

اجلاس میں اراکین نے نشاندہی کی کہ ملک میں بڑی تعداد میں نان پی ٹی اے موبائل فون موجود ہیں۔ صارفین کے لیے ٹیکس ادائیگی کا آسان طریقہ ہونا چاہیے۔

کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی کہ موبائل فون ٹیکس کی ادائیگی کے لیے اقساط کا نظام متعارف کروایا جائے۔ اس سے عوام کو سہولت ملے گی۔

چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے ہدایت دی کہ ایف بی آر اور پی ٹی اے مشترکہ طور پر اقساط کے نظام پر قابل عمل منصوبہ تیار کریں۔

Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔