موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکس اقساط میں ادا کرنے کی تجویز

Proposal to Allow PTA Mobile Phone Tax Payments in Installments
موبائل فون استعمال کرنے والے افراد کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ہدایت دی ہے کہ موبائل فونز پر عائد پی ٹی اے ٹیکس کی ادائیگی کے لیے اقساط کی سہولت فراہم کرنے پر کام کیا جائے۔ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو صارفین کو ایک ساتھ بڑی رقم ادا کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اراکین نے کہا کہ ملک میں بڑی تعداد میں ایسے موبائل فون موجود ہیں جو ابھی تک پی ٹی اے سے منظور شدہ نہیں ہیں۔ بہت سے صارفین صرف اس وجہ سے اپنے فون رجسٹر نہیں کروا پاتے کیونکہ انہیں ایک ہی وقت میں مکمل ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس مشکل کو کم کرنے کے لیے اقساط کا نظام متعارف کروانے کی سفارش کی گئی۔
اجلاس کے دوران اراکین نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں مہنگی اور سستی دونوں طرح کی مصنوعات آسان اقساط پر خریدی جا سکتی ہیں۔ اسی طرح اگر موبائل فون ٹیکس بھی قسطوں میں ادا کرنے کی سہولت دی جائے تو زیادہ لوگ اپنے فون قانونی طور پر رجسٹر کروا سکیں گے۔
قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ وہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ساتھ مل کر اس تجویز کا تفصیلی جائزہ لے۔ ایسا طریقہ کار تیار کیا جائے جس سے عوام کو بھی سہولت ملے اور حکومتی آمدنی بھی متاثر نہ ہو۔
اجلاس میں بعض اراکین نے موجودہ ٹیکس نظام پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح ہونا چاہیے کہ موبائل فون پر ٹیکس کا مقصد صرف حکومتی ریونیو بڑھانا ہے یا مقامی موبائل صنعت کو فروغ دینا بھی اس کا حصہ ہے۔
اس موقع پر ایف بی آر حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ موبائل فونز پر وصول کیے جانے والے ٹیکس حکومت کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ دوسری جانب سیکرٹری خزانہ نے خبردار کیا کہ اگر کم قیمت موبائل فونز پر ٹیکس کم کیا گیا تو قومی خزانے کو تقریباً ایک ارب روپے کے ریونیو خسارے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس صورت میں حکومت کو یہ کمی دیگر ذرائع سے پوری کرنا ہوگی۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











