موبائل فون پر پی ٹی اے ٹیکس سے متعلق بڑی خبر آگئی

Major Update on PTA Tax
پاکستان میں موبائل فون استعمال کرنے والے صارفین کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ موبائل فونز پر عائد تقریباً 60 فیصد ٹیکس بہت زیادہ ہے اور پی ٹی اے ہر سال حکومت کو ان ٹیکسوں میں کمی کی سفارشات ارسال کرتا ہے تاکہ صارفین کو سستے اسمارٹ فونز کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے پی ٹی اے چیئرمین نے واضح کیا کہ موبائل فونز پر ٹیکس یا درآمدی ڈیوٹیز عائد کرنا پی ٹی اے کا اختیار نہیں۔ ان ٹیکسوں کا فیصلہ حکومت اور متعلقہ مالیاتی ادارے کرتے ہیں، جبکہ پی ٹی اے کا کام صرف ڈیوائس آئیڈینٹیفکیشن، رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (DIRBS) کے ذریعے موبائل فونز کی رجسٹریشن، تصدیق اور وائٹ لسٹنگ کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے کے پاس ہر موبائل فون پر لاگو ہونے والے تمام ٹیکسوں کی مکمل تفصیلات بھی موجود نہیں ہوتیں۔ ادارہ صرف اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے موبائل ڈیوائسز کی قانونی رجسٹریشن کو یقینی بناتا ہے، جبکہ ٹیکس سے متعلق فیصلے دیگر حکومتی ادارے کرتے ہیں۔
اجلاس کے دوران قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سید امین الحق نے کہا کہ موجودہ دور میں اسمارٹ فون کسی عیش و آرام کی چیز نہیں بلکہ تعلیم، کاروبار، بینکنگ، آن لائن خدمات اور روزمرہ زندگی کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ موبائل فونز پر زیادہ ٹیکس عائد ہونے کی وجہ سے ان کی قیمتیں عام صارف کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں، اس لیے اس معاملے پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
پی ٹی اے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان میں موبائل فونز کی مقامی تیاری اور اسمبلنگ کے شعبے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ اب تک 37 کمپنیوں کو مقامی اسمبلنگ کے لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں ہر سال تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ موبائل فونز مقامی سطح پر اسمبل کیے جا رہے ہیں، جبکہ صرف 8 فیصد موبائل فونز بیرون ملک سے درآمد کیے جاتے ہیں۔
وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ ایپل آئی فون اور گوگل پکسل جیسے مہنگے اور پریمیئم اسمارٹ فونز بیرون ملک سے درآمد کیے جاتے ہیں، اسی وجہ سے ان پر درآمدی ڈیوٹیز اور ٹیکس بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ مقامی سطح پر ان برانڈز کی تیاری نہ ہونے کی وجہ سے صارفین کو زیادہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔
اس موقع پر سید امین الحق نے تجویز دی کہ اگر نوکیا، سام سنگ اور دیگر عالمی کمپنیاں پاکستان میں کامیابی سے موبائل فون اسمبل کر رہی ہیں تو ایپل جیسی بڑی کمپنیوں کو بھی پاکستان میں سرمایہ کاری اور اسمبلنگ پلانٹس لگانے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔ س اقدام سے نہ صرف اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے بلکہ مقامی صنعت کو بھی فروغ ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











