اسلام آباد مذاکرات کیلئے آنے والے ایرانی وفد کے طیارے کو اڑانے کی دھمکی ملی تھی، پروفیسر مرندی

ایران کے معروف پروفیسر نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے آنے والے ایرانی وفد کو دوران سفر براہ راست سیکیورٹی خطرات اور حملے کی دھمکیوں کا سامنا تھا۔
ایران کے معروف پروفیسر محمد مرندی نے المیادین نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں جب ایرانی وفد اسلام آباد جا رہا تھا، تو انہیں راستے میں براہ راست دھمکیاں موصول ہوئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وفد کو خبردار کیا گیا تھا کہ ان کے طیارے کو فضا میں ہی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ مرندی کے مطابق، تہران کے پاس پہلے سے ہی ایسی انٹیلی جنس موجود تھی کہ مذاکراتی وفد کو اسلام آباد کے سفر کے دوران یا وہاں قیام کے دوران دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کا پانچ عرب ممالک سے جنگی ہرجانے کا مطالبہ
ان سنگین خطرات کے پیش نظر، وفد نے پورے دورے کے دوران اور واپسی پر انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کیا۔ محمد مرندی نے بتایا کہ جب اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ وفد پر حملے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، تو واپسی کے لیے طے شدہ روٹ کو تبدیل کر دیا گیا اور ایرانی نمائندے ایک متبادل راستے سے بحفاظت تہران پہنچے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والے ان اہم مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے بعض قوتیں کس حد تک سرگرم تھیں۔
پروفیسر مرندی نے ان دھمکیوں کے ذرائع کے بارے میں تفصیل تو نہیں بتائی لیکن یہ واضح کیا کہ ایران اپنی قیادت اور سفارت کاروں کی حفاظت کے لیے ہر وقت الرٹ رہتا ہے اور دشمن کی کسی بھی چال کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان کے جنگی جہازوں نے ایرانی وفد کے جہازوں کو سیکورٹی فراہم کی تھی، پاکستان برادر ملک ایرانی وفد پر کسی بھی ممکنہ حملے کا جواب دینے کیلئے پوری طرح تیار تھا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












