چین کا مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ

چین نے مشرق وسطیٰ میں جاری فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کو روکنے کا یہی واحد راستہ ہے۔
واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان لیو پینگیو نے امریکی وزیر خزانہ کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر چین کا مؤقف واضح کیا ہے۔
چینی ترجمان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ایندھن کی قلت اور معاشی عدم استحکام کی اصل وجہ چین کی پالیسیاں نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال اور فوجی کارروائیاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ کا چین کو ایرانی تیل کی ترسیل روکنے کا فیصلہ
انہوں نے زور دیا کہ سب سے اہم کام یہ ہے کہ تمام فوجی کارروائیاں فوری طور پر روک دی جائیں تاکہ اس ہنگامہ آرائی کے عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات کو مزید بگڑنے سے بچایا جا سکے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ چین تنازعات کے خاتمے کے لیے فعال طریقے سے کام کر رہا ہے اور مستقبل میں بھی اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
اسی سلسلے میں چینی صدر شی جن پنگ نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے ایک چار نکاتی تجویز پیش کی ہے، جس میں پرامن بقائے باہمی، قومی خودمختاری کا احترام، عالمی قانون کی حکمرانی اور ترقی و سلامتی کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے جیسے اصول شامل ہیں۔
چین کا ماننا ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے ذریعے ہی خطے میں مستقل امن قائم کیا جا سکتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








