نیتن یاہو کا ایران جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کے دورے کا دعویٰ

ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران اسرائیلی وزیراعظم کے متحدہ عرب امارات کے خفیہ دورے اور صدر شیخ محمد بن زاید سے ملاقات کے دعوؤں نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔
ایران کے خلاف جاری فوجی جارحیت اور آپریشن رورنگ لائن کے بیچ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خفیہ دورہ متحدہ عرب امارات کے انکشاف نے خطے کی صورتحال کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری کردہ باقاعدہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے خفیہ طور پر امارات کا سفر کیا، جہاں انہوں نے اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید سے اہم ملاقات کی۔
اسرائیلی حکام کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک ایسی تاریخی پیش رفت کا پیش خیمہ ثابت ہوا ہے، جس کے اثرات دور رس ہوں گے۔
اسرائیلی میڈیا بالخصوص چینل 12 کے نمائندے یارون ابراہم نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ملاقات 26 مارچ کو عمان کی سرحد کے قریب اماراتی شہر العین میں ہوئی جو کہ ایران سے محض ڈھائی سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے سابق قائم مقام چیف آف اسٹاف زیو اگمون نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ نیتن یاہو کا ابوظہبی میں شاہانہ استقبال کیا گیا۔
ان کے مطابق شیخ محمد بن زاید اور ان کے اہل خانہ نے نیتن یاہو کو خوش آمدید کہا اور اماراتی صدر نے خود گاڑی چلا کر اسرائیلی وزیراعظم کو جہاز سے محل تک پہنچایا۔
یہ بھی پڑھیں : عالمی برادری امریکی و اسرائیلی بربریت کیخلاف ایران کا ساتھ دے، ایرانی وزارت خارجہ
اس خفیہ سفارت کاری کے ساتھ ساتھ وال اسٹریٹ جنرل کی ایک خصوصی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا نے بھی مارچ اور اپریل کے دوران متحدہ عرب امارات کے کم از کم دو خفیہ دورے کیے۔ ان دوروں کا مقصد ایران کے خلاف جنگی حکمت عملی اور دفاعی تعاون کو مربوط بنانا تھا۔
رپورٹ میں عرب حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے امارات کو ایرانی میزائل روکنے کے لیے آئرن ڈوم بیٹریاں اور فوجی عملہ بھی فراہم کیا ہے جبکہ یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ امارات نے خلیج میں لاوان جزیرے پر ایک ریفائنری سمیت ایران کے اندر بعض اہداف پر حملے بھی کیے ہیں۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ان تمام خبروں اور اسرائیلی دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اماراتی وزارت خارجہ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو کے دورے یا کسی بھی اسرائیلی فوجی وفد کی آمد سے متعلق گردش کرنے والی خبریں بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔
امارات نے اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر اور میڈیا کے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کوئی ملاقات سرے سے ہوئی ہی نہیں ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












