امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں 60 دن کی توسیع کا معاہدہ طے ہوگیا، امریکی ذرائع کا دعویٰ

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری عارضی جنگ بندی میں مزید 60 دن کی توسیع کے لیے مفاہمت کی ایک ابتدائی یادداشت پر اتفاق ہو گیا ہے، تاہم اس معاہدے پر اب بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حتمی منظوری کا انتظار ہے۔
امریکہ اور ایران کے مذاکرات کاروں کے درمیان فائر بندی میں 60 دن کی مزید توسیع کرنے اور ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں باقاعدہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق دونوں ممالک مفاہمت کی ایک ایسی یادداشت پر پہنچ چکے ہیں، جس کے تحت مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو عارضی طور پر روکا جائے گا، لیکن اس پورے فریم ورک پر عمل درآمد کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصدیق اور منظوری ہونا باقی ہے۔
دوسری طرف ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ایک باخبر ذریعے نے ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم سے بات کرتے ہوئے ان معلومات کی صحت سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ خبریں درست نہیں ہیں کیونکہ متن کو ابھی تک حتمی شکل نہیں دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : صدر ٹرمپ کیلئے ایران سے کمزور ڈیل قابل قبول نہیں ہوگی، امریکی وزیر خزانہ
امریکی ذرائع کے مطابق اس معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازوں کی نقل و حمل بغیر کسی فیس یا رکاوٹ کے بالکل آزاد ہوگی اور ایران 30 دنوں کے اندر اس سمندری راستے سے تمام بارودی سرنگیں ہٹانے کا پابند ہوگا۔
اس کے بدلے میں واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی کو تجارتی حجم کے حساب سے کم کرے گا اور تہران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت بھی دی جائے گی۔ اس معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہ کرنے کا عزم شامل ہے۔
یاد رہے کہ 8 اپریل کو پہلی بار فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا، لیکن گزشتہ دنوں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے تھے، جس کے بعد اب اس نئے معاہدے کے ذریعے امن قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









