برطانیہ اور فرانس کی ایران کی بچھائی گئی مائنز ہٹانے کیلئے تیاریاں آخری مراحل میں داخل

برطانیہ اور فرانس تجارتی بحری جہازوں کے تحفظ اور آبنائے ہرمز کو بحری مائنز سے پاک کرنے کے لیے ایک 15 ملکی عالمی مشن کی قیادت کرنے کے لیے تیار ہیں۔
برطانیہ اور فرانس نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد تجارتی جہاز رانی کو دوبارہ محفوظ بنانے کی کوششوں کے تحت آبنائے ہرمز کو بحری مائنز سے پاک کرنے کے لیے ایک وسیع عالمی مشن کی قیادت کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔
بلومبرگ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق لندن اور پیرس نے اس مشن کے بنیادی منصوبوں کو حتمی شکل دے دی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مفاہمت طے پانے کے چند دنوں کے اندر ہی یہ آپریشن شروع کر دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے پاس امریکہ کے سامنے جھکنے کی کوئی وجہ نہیں، آیت اللہ خمینی کے پڑپوتے کا انٹرویو
ذرائع کے مطابق متعدد ملکوں کے فوجی منصوبہ ساز مائنز کو ہٹانے کے آپریشنز میں شرکت کے لیے کوآرڈینیشن کے آخری مراحل میں پہنچ چکے ہیں۔
یہ وہ مائنز ہیں، جنہیں ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے کے کچھ حصوں میں بچھائی ہیں۔ اس مشن میں 15 ملکوں کا اتحاد شامل ہوگا، جنہوں نے پہلے ہی اپنے فوجی دستے اور ساز و سامان فراہم کرنے کا عزم ظاہر کر رکھا ہے۔
اس مشن کا بنیادی مقصد تجارتی شپنگ کمپنیوں کو یقین دہانی کرانا اور جہاز رانی پر ان کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ لاجسٹک تیاریاں تقریباً مکمل ہو چکی ہیں، تاہم مائنز ہٹانے کے لیے کچھ اضافی اور خاص طور پر خصوصی معاون جہازوں کی ضرورت اب بھی برقرار ہے۔
دستوں کی عملی تعیناتی اس وقت تک شروع نہیں ہوگی، جب تک امریکہ اور ایران کے درمیان باقاعدہ ایسا معاہدہ طے نہ پا جائے جو تجارتی جہاز رانی کی آزادی کی مکمل بحالی اور وہاں کام کرنے والے فوجی یونٹوں کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کرے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












