جمعہ، 12-جون،2026
جمعہ 1447/12/26هـ (12-06-2026م)

لبنان کو خانہ جنگی میں دھکیل کر گریٹر اسرائیل کیلئے راستہ صاف کرنے کا ٹرمپ صیہونی پلان

08 جون, 2026 10:00

امریکہ اور اسرائیل نے لبنان کی سرکاری فوج کے اندر ایک خاص کمانڈو یونٹ بنا کر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور ملک کو دوبارہ خانہ جنگی میں دھکیلنے کا خطرناک منصوبہ تیار کیا ہے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ میں مزاحمتی بلاک کے سب سے مضبوط ستون حزب اللہ کو ختم کرنے کے لیے لبنانی فوج کو استعمال کرنے کی خطرناک سازش کر رہا ہے۔

ٹرمپ اور مارکو روبیو کے اس نئے منصوبے کے تحت لبنانی فوج کے روایتی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سے ہٹ کر ایک مخصوص فوجی یونٹ تیار کیا جائے گا، جو براہ راست امریکی نگرانوں کے سامنے جوابدہ ہوگا اور اس کا واحد کام حزب اللہ کے خلاف کارروائی کرنا ہوگا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے اس پلان کی تصدیق کی اور کہا کہ ہم لبنانی فوج کے اندر ایک خاص فورس تیار کر رہے ہیں تاکہ وہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرے اور یہ کام اسرائیل کو خود نہ کرنا پڑے۔

اس کے جواب میں حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ حسن فضل اللہ نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی اشاروں پر بننے والی کسی بھی لبنانی فورس کا مقابلہ اسی طرح کیا جائے گا، جیسے ہم جنوبی لبنان پر قابض اسرائیلی فوج کا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : لبنانی شہریوں کے گھروں کو لوٹنا اسرائیلی فوج کا کلچر بن گیا، اخباری رپورٹ میں انکشاف

عالمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس امریکی منصوبے کے نتیجے میں لبنان ایک بار پھر ہولناک خانہ جنگی کا شکار ہو جائے گا، کیونکہ حزب اللہ کو لبنانی عوام اور خود سرکاری فوج کے اندر بڑی حمایت حاصل ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کا یہ ہتھکنڈہ نیا نہیں ہے، اس سے پہلے 1976 میں بھی لبنان کی خانہ جنگی کے دوران اسرائیل نے جنوبی لبنان کی ایک کٹھ پتلی فوج تیار کی تھی، جو بعد میں 1982 کے اسرائیلی حملے کے بعد جنرل انتوان لاحد کی قیادت میں اسرائیل کے لیے مہرہ بنی تاکہ اسرائیلی فوج کا نقصان کم ہو اور وہ فلسطینی تنظیموں اور حزب اللہ سے لڑ سکیں۔

اگر حالیہ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو نومبر 2024 میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت غیر سرکاری گروپوں کے ہتھیار جمع کرنے کی ذمہ داری ایک مشترکہ کمیٹی کو دی گئی تھی۔

اس کے بعد دسمبر میں شام کے صدر بشار الاسد کا تختہ الٹ کر امریکہ نواز گروپوں کو اقتدار دیا گیا۔ اگست 2025 میں لبنانی حکومت نے امریکی ایلچی تھامس بیرک کی تجاویز پر حزب اللہ کے ہتھیار 31 دسمبر 2025 تک مرحلہ وار سرکاری کنٹرول میں دینے کا پلان منظور کیا تھا، جسے حزب اللہ نے مسترد کیا۔

اس وقت ایران کی قومی سلامتی کے سربراہ علی لاریجانی نے، جنہیں اسرائیل نے رواں سال مارچ میں شہید کر دیا، لبنان کو اس سازش سے خبردار کیا تھا۔

اب صیہونی لابی کا یہ پورا پلان بے نقاب ہو چکا ہے کہ وہ پہلے شام اور لبنان کو کمزور کرنا چاہتے تھے تاکہ فروری 2026 میں ایران پر براہ راست حملہ کیا جا سکے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔